اتنا پڑا ہے جسم پر گردوغبارِ عشق

اتنا پڑا ہے جسم پر گردوغبارِ عشق

میں دب کے رہ گیا ہوں کہیں زیرِ بارِ عشق

 

کچھ قافیوں کے پھل لگے کچھ لاحقوں کے پھول

ٹہنی غزل کی دینے لگی برگ و بارِ عشق

 

یہ میرا معترف تھا کبھی معتقد بھی تھا

بھرتا ہے کان آج کل جو میرے بارے عشق

 

تم صرف فائدے میں رہو میرے حصے دار؟

ایسے کہاں چلا ہے کبھی کاروبارِ عشق؟

 

قدرت ہزاروں سال تلک ڈھونڈتی ہے پھر

مجھ پر ہی ڈال دیتی ہے ہر بار بارِ عشق

 

آ عشقِ ناتمام! تُو میری دعائیں لے

سنتا ہے عشق آہِ دلِ اشکبارِ عشق

 

جا میرا نام لیجؤ، کرنے لگے گی پیار

قائم ہے تیرے بھائی سے ہی اعتبارِ عشق

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ