ادا جعفری کا یوم وفات

آج مشہور و معروف شاعرہ ادا جعفری کا یوم وفات ہے۔

ادا جعفری(پیدائش: 22 اگست 1924ء – وفات: 12 مارچ 2015ء)
——
عہدِ جدید میں ادا جعفری کو بلا شبہ اُردو شاعری میں خاتونِ اوّل کا درجہ حاصل ہے جنہوں نے طبقۂ نسواں کی شاعری کو اعتبار بخشا۔اُن کی شاعری ایک طرف تو اُردو کی کلاسیکی اور تہذیبی روایت کی شاعری تھی تو دوسری طرف جدید اور عصری حسیت سے آراستہ بھی تھی۔یہ ممکن نہیں کہ ہم نسائی شاعری کے ارتقا پر بات کریں اور بات کا آغاز ادا جعفری سے نہ ہو کیوں کہ وہ اِس سلسلے میں نقطۂ آغاز کی حیثیت رکھتی ہیں۔ لہٰذا نسائی شعر گوئی کے فکری و فنی ارتقا کا جائزہ لینے کے لیے ضروری ہے کہ اُس عہد کے اجتماعی ادبی رجحانات کی روشنی میں ادا جعفری کے ذاتی فکری و اُسلوبیاتی میلانات پر بات کی جائے۔اُن کی شعر گوئی کے آغاز تک وہ عہد تھا اور وہ سر زمین تھی جہاں عورتیں ریختہ اور مرد ریختی کہہ رہے تھے۔ادب اور تہذیب کے ساتھ ایسا بیہودہ اور گھٹیا مذاق ۔ تاریخ حیران و پریشان اور ناطقہ سر بہ گریباں ہے کہ ’’نیچرل شاعری‘‘ والوں نے بھی اِس بھونڈے ادبی لطیفے کی طرف توجہ نہ دی کہ عورت قدرت کی خوب صورت تخلیق ہے ، وہ عورت کے لہجے میں ہی بات کرتی جچتی ہے اور مرد کو بھی مطمئن اور شاد رہنا چاہیے کہ قدرت نے اُسے مرد بنایا۔ایسے میں ایک عورت تڑپ اٹھی اور اُس نے اُس گھٹن میں نسائی لہجہ اپنا کر تمام خواتین کے لیے تازہ ہوا کے روزن مہیا کر دئیے۔ ادا جعفری کے فکر و فن کو سمجھنے کے لیے اُن کی خود نوشت میں درج یہ ایک اقتباس بہت اہم ہے:
’’شاعری اپنی سوانح عمری بھی ہوتی ہے اور اپنے عہد کے شب و روز کا سفر نامہ بھی۔شعرو ادب کی دنیا میں، میں نے جو سفر شروع کیا، وہ شدید روایتی ماحول اور قدامت پسند خاندانی پس منظر کی وجہ سے میرے لیے زیادہ ہی دشوار اور حوصلہ طلب رہا۔عورت کے دکھ درد میں نے آنکھ کھولتے ہی دیکھے اور بہت قریب سے دیکھے۔عورت کا پہلا روپ جو میں نے دیکھا، وہ میری ماں کا تھا۔آندھیوں میں چراغ کی لو اونچی رکھنے والے ہاتھ مجھے یاد ہیں۔‘‘
اِس اقتباس سے ہم ادا جعفری کے فلسفۂ شعر تک یوں پہنچتے ہیں کہ:
۱۔ شاعری کا اوّلین منصب یہ ہے کہ وہ اظہارِ ذات اور انکشاف ذات کا عمل ہے۔
۲۔ تخلیق کار اپنے عہد اور گردو پیش سے بے خبر نہیں ہوتا۔وہ جن حالات و واقعات سے گزرتا ہے یا جو جو مظاہرِ فطرت، اُس کے مشاہدات میں آتے ہیں، اُن سے بھی پہلو تہی نہیں کرتا۔
——
یہ بھی پڑھیں : علی سفیان آفاقی کا یوم پیدائش
——
۳۔ مرد اساس معاشرے میں عورت کو جن کٹھنائیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ایک عورت ہی اُس کا بہتر احساس و ادراک کر سکتی ہے۔لہٰذا شاعرات کے ہاں تانیثیت کا ہونا بعید از قیاس نہیں۔البتہ یہ تانیثیت کبھی ترقی پسند انہ اور کبھی سماجی و معاشرتی ہو سکتی ہے۔
ادا جعفری اُردو زبان میں ریاضتِ فن اور طویل مشقِ سخن کا نام تھیں۔ وہ کم و بیش ۷۰؍ سال تک سنجیدگی اور تواترسے شعر کہتی رہیں اور جو کچھ کہا کبھی ذات کی گہرائیوںاور پنہائیوں میں اُتر کر دل آویزی کے ساتھ ا ور کبھی خارجی کائنات کے تجربات و مشاہدات سے اخذ کردہ شعور حیات کی روشنی اور فکر و خیال کی تازہ کاری کے ساتھ۔ ادا سے پہلے خواتین غزل کے روایتی مضامین اور نظم کے روایتی سانچوں میں اظہار کرتی تھیں۔اُن کا دور چوں کہ ترقی پسندوں کا دور تھا، اِس لیے انہوں نے اُن کے اثرات قبول کیے اور شاعرات کو ہئیت کے نئے سانچوں اور فکر و خیال کے تنوع اور نئے طرزِ احساس کی طرف راغب کیا۔یوں اُن کو جو چیز ادب میں نمایاں اور ممتاز کرتی ہے وہ مروّجہ نسائی شاعری سے انحراف تھا۔وہ اپنے پہلے ہی شعری مجموعے ’’میں ساز ڈھونڈتی رہی‘‘ میں ایک نظم نگار کے طور پر مان لی گئیں۔اُن کی نظموں میں غور فکر کرنے اور سوچ کا عمل واضح تھا:۔
——
’’میں ساز ڈھونڈتی رہی‘‘
کہ سن رہے ہیں چشم و دل نظامِ نو کی آہٹیں
بہار بیت ہی چکی، خزاں بھی بیت جائے گی
مگر میں ایک سوچ میں پڑی ہوئی ہوں آج بھی
وہ میری آرزو کی ناؤ کھے سکے گا یا نہیں
نظامِ نو بھی مجھ کو ساز دے سکے گا یا نہیں
——
قاضی عبدالغفار نے ’’میں ساز ڈھونڈتی رہی‘‘ کے دیباچے میں ایک جگہ بڑی صائب رائے دی تھی:
’’خواتین عموماًہر قوم میں سب سے زیادہ قدامت پسند ہواکرتی ہیں۔اب زمانے کے تقاضوں سے متاثرہو رہی ہیں۔اُن کا ادب اور اُن کی شاعری عمومی افکار کی آئینہ دار بننے پر آمادہ ہو گئی ہے۔ادا بدایونی جیسی خواتین کا یہ رجحان جدید ادب کا ایک نشانِ راہ ہے جس سے ہم اُس منزل کا پتا پاتے ہیں جہاں ملک کے ذہنی انقلاب کی تمام قوتیں مجتمع ہو رہی ہیں۔‘‘ در اصل یہ اقتباس اُس فکری انحراف کی طرف واضح اشارہ تھا جو ادا جعفری نے اپنی پیش رو اور ہم عصر شاعرات سے کیا تھا اور ایک نئے رجحان کی بنیاد ڈالی تھی۔
آپ کی پیدائش 22؍ اگست 1924ء کو بدایوں میں ہوئی۔ تیرہ برس کی عمر میں ہی شاعری شروع کر دی تھی۔ وہ ادا بدایونی کے نام سے شعر کہتی تھیں۔ اُن کا کلام ابتدا ہی سے مرزا ادیب کے ادبِ لطیف، اختر شیرانی کے رومان اور مولانا تاجور نجیب آبادی کے شاہکار میں شائع ہونا شروع ہو گیا تھا۔ ادا جعفری عموماً اختر شیرانی اور اثر لکھنوی سے اصلاح لیتی رہی۔1947ء میں شادی نور الحسن جعفری سے انجام پائی۔ شادی کے بعد ادا جعفری کے نام سے لکھنے لگیں۔اُنہوں نے جب شاعری کا آغاز کیا تو ترقی پسند تحریک کے عروج کا زمانہ تھا اور تاریخِ ادبِ اُردو کے بڑے جید نام اِس تحریک سے وابستہ تھے۔اُن کا پہلا شعری مجموعہ ’’میں ساز ڈھونڈتی رہی‘‘ تقسیمِ ہند سے پہلے ہی ترتیب پا چکا تھا مگر تقسیم کے ہنگاموں کی وجہ سے اشاعت کی نوبت ۱۹۵۰ء میں آئی۔اُن کے مجموعۂ کلام ’’شہر درد‘‘ کو ۱۹۶۸ء میں آدم جی ادبی انعام ملا۔ اِن کے علاوہ اُن کے مجموعے ’’غزالاں تم تو واقف ہو‘‘، ’’سازِ سخن بہانہ ہے‘‘ ہائیکو، ’’حرفِ آشنائی‘‘، شعری کلیات ’’موسم موسم‘‘ زیورِ طباعت سے آراستہ ہوئے۔قدیم اساتذۂ سخن کے حالاتِ زندگی اور انتخابِ کلام بھی ’’غزل نما‘‘ کے نام سے سامنے آیا۔ علاوہ ازیں ۱۹۹۵ء میں اُن کی خود نوشت ’’جو رہی سو بے خبری رہی‘‘ کے نام سے شائع ہوئی۔
’’ادا کی غزل میں زندگی کا اثبات اور اُس کے حوالے سے مثبت رویہ دکھائی دیتا ہے۔انہوں نے ہماری تہذیبی شکست و ریخت اور شعورِ عصر کے ساتھ اپنا تعلق کبھی منقطع نہ ہونے دیا۔یہی وجہ ہے کہ ہم اُن کے فکری اثاثے پر بات کرتے ہوئے کہہ سکتے ہیں کہ اپنی فکر اور ڈکشن کے اعتبار سے پیش روؤں سے مکمل انحراف کی شاعری ہے، جس نے اپنا فکری و اُسلوبیاتی رشتہ آئندہ زمانوں سے قائم کیا۔‘‘
سازِ سخن کے نام سے اُن کے چار شعری مجموعوں کا انتخاب شائع ہوا جو اُن کی بنیادی فکر، شعری سفر اور ارتقا کو سمجھنے میں ممدو معاون ثابت ہو سکتا ہے۔اُنہوں نے کلاسیکی رچاؤ کے ساتھ غزل کہی ہو یا ترقی پسند تحریک سے متاثر ہو کر یا پھر نئے عہد کے تقاضوں سے ہم آہنگ رہتے ہوئے ہائیکو کہی ہو، ان کی شاعری ایک عورت کی محسوسات سے مملو ہے۔جیسا کہ مذکورہ بالا سطور میں ذکر کیا گیا کہ اُن کا شعری سفر طویل ریاضتِ فن کی عکاسی کرتا ہے۔
——
منتخب کلام
——
آ دیکھ کہ میرے آنسوؤں میں
یہ کس کا جمال آ گیا ہے
——
ہمارے شہر کے لوگوں کا اب احوال اتنا ہے
کبھی اخبار پڑھ لینا کبھی اخبار ہو جانا
——
بڑے تاباں بڑے روشن ستارے ٹوٹ جاتے ہیں
سحر کی راہ تکنا تا سحر آساں نہیں ہوتا
——
دل کے ویرانے میں گھومے تو بھٹک جاؤ گے
رونق کوچہ و بازار سے آگے نہ بڑھو
——
بجھی ہوئی ہیں نگاہیں غبار ہے کہ دھواں
وہ راستہ ہے کہ اپنا بھی نقش پا نہ ملے
——
مزاج و مرتبۂ چشم نم کو پہچانے
جو تجھ کو دیکھ کے آئے وہ ہم کو پہچانے
——
ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئے
آئے تو سہی، برسر الزام ہی آئے
حیران ہیں، لب بستہ ہیں، دل گیر ہیں غنچے
خوشبو کی زبانی ترا پیغام ہی آئے
تاروں سے سجا لیں گے رہ شہر تمنا
مقدور نہیں صبح، چلو شام ہی آئے
کیا راہ بدلنے کا گلہ ہم سفروں سے
جس رہ سے چلے، تیرے درو بام ہی آئے
تھک ہار کے بیٹھے ہیں سر کوئے تمنا
کام آئے تو پھر جذبۂ ناکام ہی آئے
باقی نہ رہے ساکھ اداؔ دشت جنوں کی
دل میں اگر اندیشۂ انجام ہی آئے
——
ڈھلکے ڈھلکے آنسو ڈھلکے
چھلکے چھلکے ساغر چھلکے
دل کے تقاضے، اُن کے اشارے
بوجھل بوجھل، ہلکے ہلکے
دیکھو دیکھو دامن اُلجھا
ٹھہرو ٹھہرو ساغر چھلکے
اُن کا تغافل اُن کی توجّہ
اِک دل اُس پر لاکھ تہلکے
اُن کی تمنّا، اُن کی محبّت
دیکھو سنبھل کے دیکھو سنبھل کے
——
ہرشخص پریشان سا حیراں سا لگے ہے
سائے کو بھی دیکھوں تو گریزاں سا لگے ہے
کیا آس تھی دل کو کہ ابھی تک نہیں ٹوٹی
جھونکا بھی ہوا کا ہمیں مہماں سا لگے ہے
خوشبو کا یہ انداز بہاروں میں نہیں تھا
پردے میں صبا کے کوئی ارماں سا لگے ہے
سونپی گئی ہر دولتِ بیدار اسی کو
یہ دل جو ہمیں آج بھی ناداں سا لگے ہے
آنچل کا جو تھا رنگ وہ پلکوں پہ رچا ہے
صحرا میری آنکھوں کو گلستاں سا لگے ہے
پندار نے ہر بار نیا دیپ جلایا
جو چوٹ بھی کھائی ہے وہ احساں سا لگے ہے
ہر عہد نے لکھی ہے میرے غم کی کہانی
ہر شہر میرے خواب کا عنواں سا لگے ہے
تجھ کو بھی ادا جرأتِ گفتار ملی ہے
تو بھی تو مجھے حرفِ پریشاں سا لگے ہے
——
یہی نہیں کہ زخم ِ جاں کو چارہ جُو ملا نہیں
یہ حال تھا کہ دل کو اسمِ آرزو ملا نہیں
ابھی تلک جو خواب تھے چراغ تھے گلاب تھے
وہ رہگزر کوئی نہ تھی کہ جس پہ تو ملا نہیں
تمام عمر کی مسافتوں کے بعد ہی کھلا
کبھی کبھی وہ پاس تھا جو چار سو ملا نہیں
وہ جیسے ایک خیال تھا جو زندگی پہ چھا گیا
رفاقتیں تھیں اور یوں کہ روبرو ملا نہیں
تمام آئینوں میں عکس تھے مری نگاہ کے
بھری نگر میں ایک بھی مجھے عدو ملا نہیں
وارثوں کے ہاتھ میں جو اک کتاب تھی ملی
کتاب میں جو حرف ہے ستارہ خُو ملا نہیں
وہ کیسی آس تھی ادا جو کو بکو لیے پھری
وہ کچھ تو تھا جو دل کو آج تک کبھو ملا نہیں
——
یہ فخر تو حاصل ہے بُرے ہیں کہ بھلے ہیں
دو چار قدم ہم بھی تیرے ساتھ چلے ہیں
جلنا تو چراغوں کا مقدر ہے ازل سے
یہ دل کے کنول ہیں کہ بجھے ہیں نہ جلے ہیں
تھے کتنے ستارے کہ سرِ شام ہی ڈوبے
ہنگامہِ سحر کتنے ہی خورشید ڈھلے ہیں
جو جھیل گئے ہنس کے کڑی دھوپ کے تیور
تاروں کی خنک چھاؤں میں وہ لوگ جلے ہیں
ایک شمع بجھائی تو کئی اور جلا لیں
ہم گردشِ دوراں سے بڑی چال چلے ہیں
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ