اردوئے معلیٰ

Search

آج راولپنڈی ، پاکستان سے تعلق رکھنے والے نوجوان شاعر اور افسانہ نگار الیاس بابر اعوان کا یومِ پیدائش ہے ۔

الیاس بابر اعوان(پیدائش: 28 مئی 1976ء )
——
الیاس بابر اعوان کی پیدائش 28 مئی 1976ء، راولپنڈی، صوبہ پنجاب، پاکستان میں ہوئی۔ ان کے والد کا نام محمد افضل اعوان ہے۔
اکیسویں صدی کی پہلی دہائی میں شعر و ادب کی دنیا میں وارد ہوئے۔ اسلام آباد میں نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگوئجز میں انگریزی ادب کے لیکچرر ہیں۔ اردو، انگریزی اور پنجابی میں لکھتے ہیں۔ حلقہ ارباب ِ ذوق راولپنڈی کے چار سال تک سیکرٹری رہے اور جدیدادبی تنقیدی فورم کے بانی ہیں۔ اردو میں تنقید، نظم، غزل اور افسانے کے ساتھ ساتھ انگریزی میں شاعری اور افسانے بھی لکھتے ہیں۔
——
یہ بھی پڑھیں : آغا بابر کا یومِ وفات
——
دو شعری مجموعۂ ” کلام خوابِ دِگر ” (شعری مجموعہ)2012ء، اور ” نووارد ” ( نظمیہ مجموعہ) 2016ء اور ایک نعتیہ مجموعہ ” مدحت کدہ ” 2021 ء شائع ہو چکے ہیں ۔
——
معاصرین کی آرا
——
الیاس بابر اعوان ایک ذہین اور وسیع المطالعہ نوجوان ہیں ۔ تنقید نگاری اور شعر گوئی سے خاص طبعی مناسبت رکھتے ہیں ۔ انگریزی زبان و ادب کا راست مطالعہ ہے اور اسی شعبے میں تدریس سے وابستہ ہیں ۔
جدید عہد کی انسانی زندگی ، اس کے تجربات اور اُن کے زیرِ اثر تشکیل پانے والے فکر و احساس کا منظر نامہ اُن کی دلچسپی کا میدان ہے ۔
اس ضمن میں وہ نہ صرف پڑھتے رہے ہیں بلکہ خود ان کے ہاں سوچنے کا عمل بھی اس حوالے سے اپنا ایک زاویہ رکھتا ہے جس کا اظہار ان کی شاعری میں بھی دیکھا جا سکتا ہے ۔
الیاس بابر اعوان نے اپنی شاعری میں اپنے جذبہ و فکر کے ساتھ ساتھ اس عہد کے طرزِ احساس کو بھی سمجھنے اور بیان کرنے کی عمدہ کوشش کی ہے ۔
ان کی غزل کی ڈکشن میں جو غیر رسمی لہجہ ہمیں ملتا ہے وہ اس کا نمایاں ثبوت ہیں ۔
یہی نہیں ، بلکہ انہوں نے اپنی غزلوں میں ناول ، فوٹو ، پارک اور ٹکٹ جیسے الفاظ بھی استعمال کیے ہیں ۔ یہ الفاظ غزل کے کلاسیکی لہجے سے ہم آہنگ نہیں ہیں لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ الیاس بابر اعوان نے روایتی غزل کہی بھی نہیں ہے ۔ ان کا تخلیقی شعور اور لہجہ دونوں جدیدیت سے علاقہ رکھتے ہیں ۔
انہوں نے غزل کے موڈ سے باہر کے الفاظ کو اس سلیقے سے برتا ہے کہ وہ شعر میں اجنبیت کا احساس پیدا نہیں کرتے بلکہ نیا آہنگ ابھارتے ہیں ۔
اس طرح ان کے ہاں غزل کی تہذیب و روایت کا شعور جدید عہد کے طرزِ احساس سے ہم آمیز ہو گیا ہے اور اس میں وسعت پیدا ہو رہی ہے ۔
——
یہ بھی پڑھیں : محمد الیاس قادری کا یومِ پیدائش
——
یہ ایک طرف غزل کے امکانات کا اظہار ہے اور دوسری طرف ہم ایک خوش فکر اور خوش سخن شاعر کو بھی طلوع ہوتے دیکھتے ہیں جس سے بجا طور پر بڑی توقعات وابستہ کی جا سکتی ہیں ۔
( صبیح رحمانی ، کراچی پاکستان )
——
اردو کے بہت کم ادیب اور شاعر انگریزی ادب سے کماحقہ آشنا ہیں ۔ اب اس کا کیا کیا جائے کہ نقد کے پیمانے مغرب سے ہی آئے ہیں ۔
الیاس بابر اعوان کو یہ سہولت حاصل ہے کہ انگریزی زبان و ادب کا غواص ہے اور استاد بھی ! یوں اس کی شاعری کا کینوس وسیع تر ہے ۔
اس کی غزلیں پڑھتے ہوئے یوں لگتا ہے کہ ایک Enigma ہے جس سے ہم گزر تو رہے ہیں مگر نامعلوم ہمارے ساتھ ساتھ چل رہا ہے ۔
یہاں محبت کی چمک بھی ہے اور مابعدالطبیعات کی دھند بھی ، جدید حساسیت بھی نظر آتی ہے اور ایک عدیم الحس سا DULL سا ، قدیم زمانوں کا درد بھی ، کہیں کہیں تو وہ حیران کر دیتا ہے :
——
مجھے کہتا تھا چھوڑ دے مجھ کو
اور مرا ہاتھ چھوڑتا نہیں تھا
گھر کی ساری نشانیاں تھیں یاد
بس مری جیب میں پتہ نہیں تھا
——
غزل ایک بے رحم صنف ہے ، الیاس کی غزل چونکاتی ہے ۔ شاعری کے سیلاب میں یہ امتیاز حوصلہ افزا ہے ۔ رہیں اس کی نظمیں تو ” مسجد کا سی سی ٹی وی کیمرہ ” ، ” ایک بیوہ کی دوسری شادی ” اور اس قبیل کی دوسری نظمیں کہہ کر اس نے غزل کے غزل کے صدراہے سے ایک اور راستہ نکالا ہے ۔
بوقلمونی صلاحیت کی خشتِ اول ہے ! میں مستقبل میں الیاس کو ، ہاتھ میں گرمالا لیے ، بلند دیوار پر بیٹھا دیکھ رہا ہوں ۔
( محمد اظہار الحق ، اسلام آباد ، 4 مارچ 2020 ء )
——
منتخب کلام
——
منتخب نعتیہ اشعار
——
میں صرف رو ہی سکوں گا درِ رسول کے پاس
میں کیا کروں مجھے شرمندگی زیادہ ہے
——
اشک آنکھوں سے نکلتے ہیں مدینے کی طرف
یہ پرندے ہیں مگر عام نہیں ہوتے ہیں
——
دھوپ میں بیٹھے فقیروں کی خبر ہے اُن کو
دور تک سایۂ دیوار بڑھا دیتے ہیں
——
دیتی ہے رہائی مجھے دنیا کے غموں سے
یارب مجھے دے اور تمنائے محمد
——
بعض نکتے کسی نسبت سے سمجھ آتے ہیں
کچھ چراغوں میں مجھے آبِ رواں دِکھتا ہے
نعت پڑھتے ہوئے اک حُجرے میں آ جاتا ہوں
جس کی کھڑکی سے پسِ کون و مکاں دِکھتا ہے
——
خدا کی دین ہے ہاتھوں پہ کس کے کیا لکھ دے
کہیں لکیریں ، کہیں قافلے بنے ہوئے ہیں
——
یہ بھی پڑھیں : آنکھوں کو جسجتو ہے تو طیبہ نگر کی ہے
——
مجھے سنبھال کے رکھنا اے قافلے والو
عجب نہیں کہ مدینہ پہنچ کے جی اُٹھوں
——
وگرنہ کس نے درختوں کی بات سننی تھی
ہوائے طیبہ نے آ کر مرا پیام لیا
——
دل کے بے جان قرینوں پہ اُتر آئے حیات
دیکھیے ایک نظر شاہِ جہاں بسم اللہ
——
اس شہرِ مصطفیٰ کا کشادہ دلی ہے وصف
ہجرت ہوئی تو گھر کو کھلا چھوڑ جائیں گے
——
یہ مدینہ کے گلی کوچوں میں پھرتا رہے گا
دل کے اطراف سے زنجیر ہٹا لی جائے
——
فروزاں رہتا ہے ان میں چراغِ حُبِ نبی
ہمارے سینوں میں جو طاقچے بنے ہوئے ہیں
——
جن راستوں پہ چلتے رہے ہیں رسولِ پاک
اُن پر فقیر جسم سے چھاؤں بناؤں میں
——
تو سچ بتا کہ مدینہ سے ہو کے آیا ہے
تری جبیں پہ ستارہ دکھائی دیتا ہے
——
صاف دکھتا ہے درِ آقا پہ بیٹھا ہوا شخص
کیفیت کی کہیں تصویر بنا لی جائے
——
غزل سے نعت کی جانب سفر کچھ ایسا ہے
میں بُت بناتا تھا اب زندگی بناتا ہوں
——
منتخب غزلیں
——
رخت گریز گام سے آگے کی بات ہے
دنیا، فقط قیام سے آگے کی بات ہے
تو راستے بچھا نہ چراغوں سے لو تراش
یہ عشق اہتمام سے آگے کی بات ہے
ان پتھروں کے ساتھ کبھی رہ کے دیکھیے
یہ خامشی کلام سے آگے کی بات ہے
میں نے عدو کے خیمے میں بھیجا ہے اک چراغ
یہ عین انتقام سے آگے کی بات ہے
تو آب و گل سے جسم بنا، اسم مت سکھا
بابرؔ یہ تیرے کام سے آگے کی بات ہے
——
بول سکتے ہیں مگر بات نہیں کر سکتے
وقت ایسا ہے سوالات نہیں کر سکتے
فیس بک کا بھی تعلق ہے تعلق کیسا
دیکھ سکتے ہیں ملاقات نہیں کر سکتے
اتنا گہرا ہے یہاں کنج خرافات کا شور
لوگ اب طرفہ مناجات نہیں کر سکتے
اڑ تو جائیں شجر خام کے زنداں سے ہم
دوست ہے دوست سے ہم ہاتھ نہیں کر سکتے
اتنا سفاک ہے احساس کا منظر نامہ
لوگ اندازۂ صدمات نہیں کر سکتے
کیا یہ کم صدمہ ہے دو طرفہ ملاقات کے بیچ
بول سکتے ہیں مگر بات نہیں کر سکتے
بس کوئی دکھ ہے جس بار نمو کرنا ہے
جس کو ہم رزق عبارات نہیں کر سکتے
——
دیے جلیں گے تو پھر روشنی تو ہوگی ناں
کلاس فیلو ہیں ہم دوستی تو ہوگی ناں
نظر جھکائے یوں ہی پاس سے نہیں گزرا
فریب کار کو شرمندگی تو ہوگی ناں
یہ میرا فیض نہیں خانوادے کا ہے مزاج
سو میرے چاروں طرف روشنی تو ہوگی ناں
ہمارے جیب تراشوں کے حسن ظن کو سلام
کہ زر ہوا نہ ہوا شاعری تو ہوگی ناں
کبھی جو آنکھوں سے کرتے تھے آج کہنا پڑیں
ہماری باتوں میں بے ربطگی تو ہوگی ناں
پرندے اپنے ٹھکانوں پہ اڑ کے جا چکے ہیں
ہمارے نان و نمک میں کمی تو ہوگی ناں
——
حوالہ جات
——
نعتیہ انتخاب از مدحت کدہ ، مصنف : الیاس بابر اعوان 2021 ء
غزلیں از آدیش ، مصنف : الیاس بابر اعوان ، 2020 ء
معاصرین کی آرا از آدیش ، مصنف : الیاس بابر اعوان ، 2020 ء
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ