ادب سے جو بھی مدینے میں سر جھکاتے ہیں

ادب سے جو بھی مدینے میں سر جھکاتے ہیں

میرا یقیں ہے خدا سے مراد پاتے ہیں

 

بہشت اُن کے مقدر پہ ناز کرتی ہے

جو خوش نصیب مدینے بلائے جاتے ہیں

 

امیر ، شاہ و گدا ہر گھڑی زمانے میں

نبی کے خوانِ کرم سے ہی ٹکڑے کھاتے ہیں

 

بلائے اُن کو جو رو کر مدد کو آتے ہیں

اسیرِ رنج و بلا کے الم مٹاتے ہیں

 

اندھیرے خود ہی اجالوں میں ڈوب جاتے ہیں

نبی ہمارے جہاں جب بھی مسکراتے ہیں

 

یقین اُن کے سلامت ہیں نیکیاں واللہ

جو اُن کے روضے کے آداب سیکھ جاتے ہیں

 

یہ فیض اُن سے ہی نسبت کا ہے رضاؔ دیکھو

مدینے پاک کے ذرّے بھی جگمگاتے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

نہیں ہے دم خم کسی میں اتنا، ثنا نبیؐ کی جو لکھے کامل
شعرِ عقیدتِ نبی خوب عطا ہوا مجھے
آمنہ بی کا پسر، راج کنور، لختِ جگر
میں نے اشعار کہنے کی مانگی دعا
ہر طرف تیرگی تھی نہ تھی روشنی
بے چین دل نے جس گھڑی مانگا خدا سے عشق
مدینےکا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ
مدحِ رسولؐ میں جو ہر گل پرو دیا ہے
آ وڑیا ترے شہر مدینے اک غمگین سوالی ھُو
دَرسِ قُرآں ہے برابر ہر ادا کا احترام

اشتہارات