اردوئے معلیٰ

ادب سے سر جھکا، بیٹھے ہوئے ہیں

ادب سے سر جھکا، بیٹھے ہوئے ہیں

حضورِ کبریا بیٹھے ہوئے ہیں

 

خدا کے رُوبرو بندے خدا کے

بفیضِ مصطفیٰ بیٹھے ہوئے ہیں

 

خدا کے ساتھ ہی معراج کی شب

حبیبِ کبریا بیٹھے ہوئے ہیں

 

یہاں سب انبیا و اولیا بھی

اُٹھا دستِ دعا بیٹھے ہوئے ہیں

 

وہ مجذوب و قلندر سر بکف ہیں

جو عاشق با خدا بیٹھے ہوئے ہیں

 

شہیدوں کا نگہباں خود خدا ہے

جو اپنے سر کٹا بیٹھے ہوئے ہیں

 

خدا و مصطفیٰ سے خیر لینے

ظفرؔ جیسے گدا بیٹھے ہوئے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ