اذن ہو جائے تو تدبیر سے پہلے لکھ لوں

اذن ہو جائے تو تدبیر سے پہلے لکھ لوں

نعت کے نور کو تنویر سے پہلے لکھ لوں

 

کیا خبر بعد ازاں آنکھ کھلے یا نہ کھلے

مَیں ترے خواب کو تعبیر سے پہلے لکھ لوں

 

حرف بنتے ہوئے کچھ دیر لگے گی شاید

مَیں ترے نام کو تحریر سے پہلے لکھ لوں

 

شانۂ نور پہ رہتا ہے ستاروں کا ہجوم

کیا تری زلف کو تفجیر سے پہلے لکھ لوں

 

اِس قدر آپ کی رحمت پہ یقیں ہے میرا

کہ معافی کو مَیں تقصیر سے پہلے لکھ لوں

 

اُن کی مرضی میں ہے مقصودؔ خدا کی مرضی

حرفِ تبشیر کو تنذیر سے پہلے لکھ لوں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ