اردو کے صاحب طرز شاعر ‘شاعر لکھنوی’ کا یوم وفات

آج اردو کے صاحب طرز شاعر ‘شاعر لکھنوی’ کا یوم وفات ہے

شاعر لکھنوی کا اصل نام محمد حسن پاشا ولد منظور احمد صدیقی تھا۔
16 اکتوبر 1917ء کو لکھنؤ میں پیدا ہوئے ۔
لکھنؤ کے روایتی انداز شاعری سےالگ ہٹ کر اپنی شاعری کے لئے نیا انداز وضع کرنے کے سبب جانے جاتے ہیں ۔ اسی وجہ سے فرمان فتح پوری نے انہیں لکھنؤ کا غیر لکھنوی شاعر قرار دیا تھا ۔
لکھنؤ کے شعر وادب کے ماحول میں تربیت اور اساتذۂ سخن کی قربت نے ان کے شعری ذوق کو جلا بخشی اور بہت چھوٹی عمر میں اچھی شاعری کرنے لگے ۔
1948 میں وہ پاکستان چلے گئے ، کسب معاش کے لئے ریڈیو پاکستان میں ملازمت اختیار کی ۔ ’پاکستان ہمارا ہے‘ کے عنوان سے ان کے ریڈیو فیچر بہت مقبول ہوئے ۔ شاعر لکھنوی نے بچوں کیلئے نظمیں بھی لکھیں ۔
شاعر لکھنوی شعر کہنے میں بڑی محنت کرتے تھے ۔ موڈ نہیں ہوتا تو مہینوں ایک شعر بھی نہیں کہتے تھے ۔ لیکن جب رو آتی تو غزلوں پر غزلیں کہہ ڈالتے تھے۔
کہتے ہیں کبھی تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے شعر کہنا آتا ہی نہیں اور اس سے مشکل دوسرا کام نہیں ہے ۔ لیکن جب رو آ جاتی ہے تو اس سے زیادہ آسان اور خوش گوار کام کوئی نہں معلوم ہوتا ۔ لیکن شاعرؔ صاحب اس کے باوجود اشعار کو بار بار بدلتے ، کاٹتے چھانٹتے تھے اور ایک سخت معترض کی طرح اپنے کلام پر نظر ڈالتے تھے اور ھک و فک سے کام لیتے تھے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : ممتاز کلاسیکل شاعر عزیز لکھنوی کا یوم وفات
۔۔۔۔۔۔۔۔
ان کے خالص شاعر ہونے کا ایک مظہر یہ بھی تھا کہ انھوں نے ہمیشہ شاعر ہونے ہی کو کافی سمجھا ۔ انھوں نے مضمون نگار، افسانہ نگار ، ناول نگار یا نقاد بننے کی کوشش نہیں کی ۔ ویسے انھوں نے نثر بھی لکھی ۔ ریڈیو کے فیچر ، رسائل کے لیے کتابوں پر تبصرے ، دوستوں کے کلام پر تنقیدیں یا تقریظیں بھی لکھی ہیں ۔ خطوط بھی خوب لکھتے تھے اور ان کا خط بھی پختہ اور دل کش تھا ۔
شاعر صاحب غزل کے ممتاز شاعر تو تھے ہی ، انھوں نے نظمیں بھی کہیں ، اگرچہ ان کی تعداد کم ہے مگر شاعر صاحب نے بچوں کی نظمیں اتنی تعداد میں لکھی ہیں کہ اردو کے چند بڑے شاعروں کو چھوڑ کر شاید ہی کسی نے لکھی ہوں ۔
23 ستمبر 1989ء کو کراچی میں ایک روڈ ایکسیڈینٹ میں آپ کا انتقال ہوا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
تصانیف
۔۔۔۔۔۔۔۔
نکہت و نور – مجمو عہ نعت
زخم ہنر – مجموعہ غزلیات
۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : معروف شاعر مرزا جعفر علی خاں اثر لکھنوی کا یوم پیدائش
۔۔۔۔۔۔۔۔
منتخب کلام
۔۔۔۔۔۔۔۔
نعت سرورِ کونین احمد مجتبٰی محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم
۔۔۔۔۔۔۔۔
کمال کچھ نہ رہا صاحبِ کمال کے بعد
ہر آئِنہ ہوا دندلا ترے جمال کے بعد
تری عطا کی ہے ہم عاصیوں پہ یوں تقسیم
کچھ انفعال سے پہلے ، کچھ انفعال کے بعد
دل اُن کا گھر ہے وہ اس گھر میں آتے رہتے ہیں
کبھی خیال سے پہلے ، کبھی خیال کے بعد
وہ اِس ادا سے گئے تا بہ منزلِ معراج
کہ ہر کمال کو سکتہ ہے اِس کمال کے بعد
کوئی مِثال نہیں تھی کوئی مِثال نہیں
تری مِثال سے پہلے تری مِثال کے بعد
عطائے سرورِ کونین کے فدا شاعرؔ
کہ دو جہاں مرے دامن میں ہیں سوال کے بعد
۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : وہی ہم اہلِ خطا کو نبی ﷺسے ملتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔
وفا کی ایذا پسندیوں کو نشاطِ دل سازگار کیوں ہے
یہ سوچ کر اب تڑپ رہا ہوں کہ زندگی کو قرار کیوں ہے
مری تمنا کا ماحصل ہے چمن میں کلیوں کی مسکراہٹ
مجھے کچھ اِس سے غرض نہیں ہے بہار کیا ہے بہار کیوں ہے
نَفس نَفس پر یہ اہلِ دنیا نئے نئے طنز کر رہے ہیں
انھیں کچھ اس کی خبر نہیں ہے مجھے ترے غم سے پیار کیوں ہے
یقیں دلایا گیا تھا ہم کو کہ ہو گئی ہے سحر نمایاں
مگر یہ راہوں میں کیوں اندھیرے یہ منزلوں تک غُبار کیوں ہے
مجھے خوشی ہے کہ مسکرا کر میں چاک دامن کے سی رہا ہوں
انھیں یہ تشویش ہے کہ اب تک مرا جنوں ہوشیار کیوں ہے
اِسے تو عقل و جنوں سے ہٹ کر فقط محبت ہی طے کرے گی
جہاں کوئی آرزو نہیں ہے وہاں ترا انتظار کیوں ہے
جو غم سے گھبرا رہے ہیں شاعرؔ کوئی یہ اے کاش ان سے پوچھے
اگر سمجھنا ہے زندگی کو تو زندگی سے فرار کیوں ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔
خِرد تو گمراہ ہو چکی ہے جُنوں کو اب رہنما کریں گے
جہاں پہ ہے انتہائے منزل ، وہاں سے ہم ابتدا کریں گے
محبت اک سوزِ مشترک ہے ہم اس کی تشریح کیا کریں گے
نگاہ و دل کا معاملہ ہے ، نگاہ و دل فیصلا کریں گے
چلے تو ہیں بزمِ ناز میں ہم ہزار ضبطِ وفا کریں گے
مگر یہ بے اختیار آنکھیں برس پڑیں گی تو کیا کریں گے
قریب آتا ہے وہ زمانہ ہنسے گا بجلی پہ آشیانہ
جہاں کا ہز ذرہ برق ہو گا وہاں نشیمن بنا کریں گے
یہاں تو ایک ایک موجِ طوفاں بجائے خود ہے نویدِ ساحل
وہ لوگ جن کا خدا نہیں ہے وہ منتِ نا خدا کریں گے
جو نکہتوں میں بے ہوئے ہیں انھیں ضرورت نہیں چمن کی
جنھیں میسر ہے غم تمھارا ، غمِ جہاں کو وہ کیا کریں گے
ہے ایک طرف جام کی تمنا تو اک طرف ہے خیالِ توبہ
ذرا گھٹاؤں کا رنگ دیکھیں تو پھر کوئی فیصلا کریں گے
لہو بہانے کے بعد ہوتی ہے حاصل اک سرخی فسانہ
خزاں کے جھونکوں سے ڈرنے والے چمن کی تعمیر کیا کریں گے
ہزار دنیا مٹائے شاعرؔ مگر حقیقت رہے گی روشن
چراغ کاشانہء محبت جلا کۓ ہیں ، جلا کریں گے
۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : کوئی کیا بتائے کہ چیز کیا یہ گُداز عشقِ رسول ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

نامور شاعر ناصر زیدی کا یوم ِ وفات
نامور شاعر اور جاسوسی ناول نگار ابن صفی کا یوم پیدائش اور یوم وفات
معروف شاعر اور ڈرامہ نگار علی سردار جعفری کا یوم وفات
معروف ناول نگار اور سفرنامہ نگار کشمیری لال ذاکر کا یوم وفات
شاعر اور انشائیہ نگار ڈاکٹر وزیر آغا کا یومِ وفات
معروف ادیب سید الطاف علی بریلوی کا یوم پیدائش
اردو کے مشہور شاعر ڈاکٹر یونگ وان لئیو شیدا چینی کا یوم پیدائش
ناول نگار و افسانہ نگار الیاس سیتا پوری کا یوم وفات
نامور ادیب اور صحافی ابراہیم جلیس کا یومِ پیدائش
نامور ادیب مولانا غلام رسول مہر کا یومِ پیدائش