ارض و سما کی بزم میں، ہوتا مرا بھی نام خاص

ارض و سما کی بزم میں، ہوتا مرا بھی نام خاص

شاہِ امم کا میں اگر، ہوتا کوئی غلام خاص

 

چشمِ فلک نے دیکھا ہے، ایک نظارہ ایسا بھی

عشقِ نبی نے کر دیا، ایک سیاہ فام خاص

 

ختمِ رسل بھی ہیں وہی، وہ ہی امام انبیا

ان کو سبھی رسولوں میں، بخشا گیا مقام خاص

 

شہرِ نبی کی ساعتیں، لطف میں خلد سے فزوں

راتیں بھی اس کی منفرد، اور ہیں صبح و شام خاص

 

شاہ و گدا کا امتیاز، آ کے مٹایا آپ نے

آپ کی بارگاہ میں، ہو گئے سارے عام خاص

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

نعت سے عشقِ پیہم کی خوشبو آئے
نسیمِ ذِکرِ نبی جب لبوں کو چھو کے گئی
اسے زما نہ بڑے ہی ادب سے ملتا ہے
کبھی کوہِ صفا پر مسکرایا
من موہن کی یاد میں ہر پل ساون بن کر برسے نیناں
خلقِ خدا میں فائق، صلِ علیٰ محمد ﷺ
قلب کو بارگہِ شاہ سے لف رکھتا ہوں
جس شخص نے کی آپؐ سے وابستگی قبول
ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماوا ہے ہمارا
اے راحتِ جاں باعثِ تسکین محمدؐ