اردوئے معلیٰ

ازل سے خلق میں پہلا جو نقش روشن ہے

اسی کی چاہ سے معمور دل کی دھڑکن ہے

 

اسی کے حسن کا پرتو ہے دل کے چار طرف

خوشا کہ کُلبۂ دل میں بھی ایک روزن ہے

 

میں میم سوچ کے اک دائرہ بناتا ہوں

وہ دائرہ مرے گھر کا حسین آنگن ہے

 

ندامتیں ہیں عمل پر مگر نہیں مایوس

شفیعِ روزِ جزا سے دلوں کا بندھن ہے

 

شہا ! غلام کی کوشش ہے التفات طلب

کہ اس کے سعی و عمل میں عجیب اَڑچن ہے

 

ہے ان کا اُسوہ فقط زینتِ نظر اب تک

اِسی لیے تو ندامت سے تر یہ دامن ہے

 

حضور ! کیسے ندامت کے عکس دکھلاؤں؟

کہ میرا دل تو شکستہ سا ایک درپن ہے

 

ہو اُن کے عشق سے جب دل کا انسلاک عزیزؔ

تو زندگی کے لیے خوشگوار بندھن ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات