ازل سے خلق میں پہلا جو نقش ﷺ روشن ہے

ازل سے خلق میں پہلا جو نقش ﷺ روشن ہے

اسی ﷺ کی چاہ سے معمور دل کی دھڑکن ہے

 

اسی کے حسن کا پرتو ہے دل کے چار طرف

خوشا کہ کُلبۂ دل میں بھی ایک روزن ہے

 

میں میم سوچ کے اک دائرہ بناتا ہوں

وہ دائرہ مرے گھر کا حسین آنگن ہے

 

ندامتیں ہیں عمل پر مگر نہیں مایوس

شفیعِ ﷺ روزِ جزا سے دلوں کا بندھن ہے

 

شہا ﷺ! غلام کی کوشش ہے التفات طلب

کہ اس کے سعی و عمل میں عجیب اَڑچن ہے

 

ہے ان کا اُسوہ فقط زینتِ نظر اب تک

اِسی لیے تو ندامت سے تر یہ دامن ہے

 

حضور ﷺ! کیسے ندامت کے عکس دکھلاؤں؟

کہ میرا دل تو شکستہ سا ایک درپن ہے

 

ہو اُن ﷺ کے عشق سے جب دل کا انسلاک عزیزؔ

تو زندگی کے لیے خوشگوار بندھن ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

بہ صد نیاز ، بہ صد احترام آیا ہے
کہتے ہیں سبھی دیکھ کے دربار تمہارا
عشق بس عشق مصطفےٰ مانگوں
آپؐ سے حسن کائنات آپ کہاں کہاں نہیں
ہے ہم کو آپ کے رب کا سہارا محترم آقا
دکھا دیجے عاصی کو شہرِ مدینہ
ماحول کی تلخیاں بھلا کر
بنامِ نورِ مجسم پیام لکھا ہے
گر ملے تو لوں میں بوسے خامہء حسان کے
آپ حامی ہیں تو منزل آشنا ہے جستجو