اردوئے معلیٰ

حسن عسکری عابدی کی برسی

آج معروف شاعر حسن عسکری عابدی کی برسی ہے۔


نام سید حسن عسکری عابدی اور تخلص حسن تھا۔
07؍جولائی1929ء کو قصبہ ظفرآباد، ضلع جون پور(بھارت) میں پیدا ہوئے۔ انٹر میڈیٹ شبلی کالج اور بی اے الہ آباد یونیورسٹی سے کیا۔
1948ء کے اواخر میں روزگار کی تلاش میں حسن عابدی کراچی آگئے۔دو دفعہ جیل بھی گئے۔ رہائی کے بعد روزنامہ’’آفاق‘‘، ’’لیل ونہار‘‘، ہفت روزہ’اخبار خواتین‘ میں کام کیا۔ آخر میں روزنامہ ’’ڈان ‘‘ سے منسلک تھے۔
06ستمبر 2005ء کو کراچی میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔
حسن عابدی کی شاعری کا آغاز دور طالب علمی ہی سے ہوگیا تھا۔
ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں: ’نوشت نے‘، ’جریدہ‘(شعری مجموعے)، ’کاغد کی کشتی‘، ’شریر کہیں کے‘ (بچوں کے لیے نظموں کا مجموعہ)، ’بھارت کا بحران‘(ترجمہ)، ’پاکستانی معاشرہ اور عدم رواداری‘، ’فرار ہونا حروف کا‘۔
——۔۔۔
منتخب کلام
——۔۔۔
شہر نا پرساں میں کچھ اپنا پتہ ملتا نہیں
بام و در روشن ہیں لیکن راستہ ملتا نہیں
فصل گل ایسی کہ ارزاں ہو گۓ کاغذ کے پھول
اب کوئی گل پیرہن زریں قبا ملتا نہیں
آشنا چہروں سے رنگ آشنائی اڑ گیا
ہم زباں اب خشک پتوں کے سوا ملتا نہیں
ایک سناٹا ہے شبنم سے شعاع نور تک
اب کوئی آنچل پس موج صبا ملتا نہیں
حاکموں نے شہر کے اندر فصیلیں کھین دیں
دن میں بھی اب کوئی دروازہ کھلا ملتا نہیں
اتنے بے پروا ارادے اتنے بے توفیق غم
ہاتھ اٹھتے ہیں مگر حرف دعا ملتا نہیں
رات ہے اور آتی جاتی ساعتیں آنکھوں میں ہیں
جیسے آئینے بساط خواب پر ٹوٹے ہوۓ
آبگینے پتھروں پر سرنگوں ہوتے گۓ
اور ہم بچ کر نکل آۓ مگر ٹوٹے ہوۓ
مل گۓ مٹی میں کیا کیا منتظر آنکھوں کے خواب
کس نے دیکھے ہیں ستارے خاک پر ٹوٹے ہوۓ
وہ جو دل کی مملکت تھی بابری مسجد ہوئی
بستیاں سنسان گھر ویران در ٹوٹے ہوۓ
——۔۔۔
ہم تیرگی میں شمع جلاۓ ہوۓ تو ہیں
ہاتھوں میں سرخ جام اٹھاۓ ہوۓ تو ہیں
اس جان انجمن کے لیے بے قرار دل
آنکھوں میں انتظار سجاۓ ہوۓ تو ہیں
میلاد ہو کہ مجلس غم مبتلا ترے
آنگن میں دل کے فرش بچھاۓ ہوۓ تو ہیں
حزب حرم نے شوق جنوں کو بڑھا دیا
سینے سے ہم بتوں کو لگاۓ ہوۓ تو ہیں
دنیا کہاں تھی پاس وراثت کے ضمن میں
اک دین تھا سو اس پہ لٹاۓ ہوۓ تو ہیں
کب چوب دار پر ہوں سر اراز دیکھیے
اس شوخ کی نگاہ میں آۓ ہوۓ تو ہیں
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ