اردوئے معلیٰ

اس لیے لکھتا نہیں میں دلِ غمگین کا دکھ

کون سمجھے گا یہاں میرے مضامین کا دکھ

 

ایک تو چیر گئی اس کی غزل دل میرا

اور اس پر وہ مرے نعرہء تحسین کا دکھ

 

اک طرف کابل و کشمیر کراچی کی آگ

اک طرف شام حلب اور فلسطین کا دکھ

 

ایک دنیا ہے دکھوں والی ہمارے اندر

ہم نے رکھا نہیں دل میں کبھی,, دو تین,, کا دکھ

 

خود کو فرہاد کا استاد سمجھنے والے

مجھ کو سمجھا دے فقط عشق کی تو ,, شین ,, کا دکھ

 

میں نے جب جون کی ”شاید” کو سرھانے رکھا

آ گئی وہ بھی لیے آنکھ میں ” پروین” کا دکھ

 

بس لیے جاتا ہے احساس سے عاری سانسیں

شیخ کو دنیا کا ہے اور نہ ہی دین کا دکھ

 

پڑھ رہے تھے کسی کے ہونٹ دعا ہجر کی جب

میں نے کاغذ پہ لکھا خون سے,, آمین,, کا دکھ

 

میری آنکھوں میں سبھی اشک تھے میٹھے حیدر

میرے گالوں پہ رہا اس لب ِ نمکین کا دکھ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات