اشک میں ڈھل کے آؤں گا

خواب کے رُوپ میں نہیں ، اشک میں ڈھل کے آؤں گا

اب کے میں تیری آنکھ میں بھیس بدل کے آؤں گا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

حیف اتنا تو دمِ رخصت کیا ہوتا خیال
کی ریا سے نہ شیخ نے توبہ
بڑا کریم ہے وہ ، ہر شجر کو پھل دے گا
زمانے بعد اُسے پڑھ کے مسکرا رہا ہوں
اس کا لہجہ سماعتوں میں گھلا
کیوں کر بڑھاؤں ربط نہ دربان یار سے
تیرے آتے ہی دیکھ راحت جاں
کوئی مرے بارے میں نہ کچھ بھی جان سکے
ترے مرے ملاپ پر وہ دشمنوں کی سازشیں
اس طرح سے زندگی نے دیا ہے ہمارا ساتھ