اردوئے معلیٰ

اضطراب شوق بے حد میں کہیں رہتا ہے وہ

 

اضطراب شوق بے حد میں کہیں رہتا ہے وہ

کائنات روح احمد میں کہیں رہتا ہے وہ

 

دائرہ در دائرہ صدیاں بلاتی ہیں اسے

سچی آوازوں کے گنبد میں کہیں رہتا ہے وہ

 

یاد آتا ہے مصیبت میں دعاؤں کی طرح

شہر کے ویران معبد میں کہیں رہتا ہے وہ

 

خاک میں گھلتا لہو ہے منتظر اس کے لیے

سرخرو ہونے کے مقصد میں کہیں رہتا ہے وہ

 

اک ارادے کی طرح زخمی دلوں کے درمیاں

ارض جاں کی آخری حد میں کہیں رہتا ہے وہ

 

ہجر کے غار حرا میں دیکھتے اجمل کو تم

قریہ عشق محمد میں کہیں رہتا ہے وہ

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ