اردوئے معلیٰ

Search

الہام کی رم جھم کہیں بخشش کی گھٹا ہے

یہ دل کا نگرہے کہ مدینے کی فضا ہے

 

سانسوں میں مہکتی ہیں مناجات کی کلیاں

کلیوں کے کٹوروں پہ تیرا نام لکھا ہے

 

آیات کی جھرمٹ میں تیرے نام کی مسند

لفظوں کی انگوٹھی میں نگینہ سا جڑا ہے

 

اب کو ن حدِ حسن طلب سوچ سکے گا

کونین کی وسعت تو تہہ دستِ دعا ہے

 

ہے تیری کسسک میں بھی دمک حشر کے دن کی

وہ یوں کہ میرا قریہ جاں گونج اُٹھا ہے

 

خورشید تیری راہ میں بھٹکتا ہوا جگنو

مہتاب تیرا ریزہ نقشِ کف پا ہے

 

ولیل تیرے سایہ گیسو کا تراشا

ولعصر تیری نیم نگاہی کی ادا ہے

 

لمحوں میں سمٹ کر بھی تیرا درد ہے تازہ

صدیوں میں بھی بکھر کر تیرا عشق نیا ہے

 

یا تیرے خدوخال سے خیرہ مہ و انجم

یا دھوپ نے سایہ تیرا خود اُوڑھ لیا ہے

 

یا رات نے پہنی ہے ملاحت تیری تن پر

یا دن تیرے اندازِ صباحت پہ گیا ہے

 

رگ رگ نے سمیٹی ہے تیرے نام کی فریاد

جب جب بھی پریشان مجھے دنیا نے کیا ہے

 

خالق نے قسم کھائی ہے اُس شہر اماں کی

جس شہر کی گلیوں نے تجھے ورد کیا ہے

 

اِک بار تیرا نقشِ قدم چوم لیا تھا

اب تک یہ فلک شکر کے سجدے میں جھکا ہے

 

دل میں ہو تیری یاد تو طوفاں بھی کنارہ

حاصل ہو تیرا لطف تو صرصر بھی صبا ہے

 

غیروں پہ بھی الطاف تیرے سب سے الگ تھے

اپنوں پہ بھی نوازش کا انداز جدا ہے

 

ہر سمت تیرے لطف و عنایت کی بارش

ہر سو تیرا دامانِ کرم پھیل گیا ہے

 

ہے موجِ صبا یا تیرے سانسوں کی بھکارن

ہے موسم گل یا تیری خیراتِ قبا ہے

 

سورج کو اُبھرنے نہیں دیتا تیرا حبشی

بے زر کو ابوزر تیری بخشش نے کیا ہے

 

ثقلین کی قسمت تیری دہلیز کا صدقہ

عالم کا مقدر تیرے ہاھتوں پہ لکھا ہے

 

اُترے گا کہاں تک کوئی آیات کی تہہ میں

قرآن تیری خاطر ابھی مصروفِ ثنا ہے

 

اب اور بیاں کیا ہو کسی سے تیری مدحت

یہ کم تو نہیں ہے کہ تو محبوبِِ خدا ہے

 

اے گنبدِ خضرا کے مکین میری مدد کر

یا پھر یہ بتا کون میرا تیرے سوا ہے

 

بخشش تیری آٓنکھوں کی طرف دیکھ رہی ہے

محسنؔ تیرے دربار میں چپ چاپ کھڑا ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ