امن اور آگہی ، بندگی ہیں نبی

امن اور آگہی ، بندگی ہیں نبی

سر سے پاؤں تلک روشنی ہیں نبی

 

سارے عالم کو بانٹیں گے رحمت نبی

جسمِ کونین کی زندگی ہیں نبی

 

جن کا ثانی زمانے میں کوئی نہیں

ایسے شہ کارِ ربِ جلی ہیں نبی

 

جن سے رُشد و ہدایت کے سب سلسلے

ضوفشاں شمعِ حق آخری ہیں نبی

 

جانِ صدیق ہیں ، تاجِ فاروق ہیں

عزِ عثمان و فخرِ علی ہیں نبی

 

اُن کے آنے سے رنج و الم مٹ گئے

ساری دنیا میں وجہِ خوشی ہیں نبی

 

نورِ حق کا سراپا رضاؔ ہیں وہی

کیا بتاؤں کہ کیسے نبی ہیں نبی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مری جاں سے قریں میرا خُدا ہے
دل کہاں ضبط میں ہے،آنکھ کہاں ہوش میں ہے
بھیک ہر ایک کو سرکار سے دی جاتی ہے
شاہا ! سُخن کو نکہتِ کوئے جناں میں رکھ
اور کیا چاہیے بندے کو عنایات کے بعد
محظوظ ہو رہے ہیں وہ کیفِ طہور سے
عدن بنا گیا مسجد کو اپنے سجدوں سے
ہر لفظ حاضری کا سوالی ہے نعت میں
کر کے رب کی بندگی خاموش رہ
یہ لبوں کی تھرتھراہٹ یہ جو دل کی بے کلی ہے

اشتہارات