امن عالم کے لیے انسانِ اکمل بھیج دے

امن عالم کے لیے انسانِ اکمل بھیج دے

العطش کا شور ہے رحمت کے بادل بھیج دے

 

فکر عاقل سے جہنم بن چکی ہے یہ زمیں

ان کو سمجھانے خدایا کوئی پاگل بھیج دے

 

عہدِ نو کو روشنی سے جس کی کچھ ہو فائدہ

علم و دانش کا کوئی ماہِ مکمل بھیج دے

 

جس کو پیتے ہی مجھے ہو معرفت تیری نصیب

ساغرِ عرفاں کی ربی ایسی چھاگل بھیج دے

 

مسلکِ ذاتی سے ملت ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی

اختلاف و نزع کا یا رب کوئی حل بھیج دے

 

رہ گئی ہے چشم ساحل میں ذرا سی روشنی

اس کی آنکھوں کے لیے نورانی کاجل بھیج دے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اے خالقِ کل سامنے اک بندہ ترا ہے
نگاہِ قہر سے دیکھیں ہیں آج سب مجھ کو
خدا قلاّش کو بھی شان و شوکت بخش دیتا ہے
شکست میرا مقدر سہی سنبھال مجھے
میں بہت ہی ظلم کر بیٹھا ہوں اپنی جان پر
قادرِ مطلق
رحیم و راحم رحماں رُحَیَّم و ارحم
حیات بیکار ہے یقینا
اے ارض مقدس کے راہی ایماں کی حرارت لے جانا
اَتِّباعِ سیدالکونین ﷺ کے فیضان سے