اردوئے معلیٰ

Search

اناء کہ مر گئی ، خاموش کیوں نہیں ہوتی

شکستِ خواب فراموش کیوں نہیں ہوتی

 

اٹھائے پھرتی ہے وحشت شکست کا لاشہ

یہ کم نصیب سبک دوش کیوں نہیں ہوتی

 

اب اس سے قبل کہ پھٹ جائے ذہن ہی آخر

یہ سوچ درد سے بے ہوش کیوں نہیں ہوتی

 

بلا جواز ہی عریانیاں ہیں ، ائے وحشت

جو کچھ نہیں تو کفن پوش کیوں نہیں ہوتی

 

لبوں پہ دم لیے پھرتی ہے جو حیات ، اسے

نصیب موت کی آغوش کیوں نہیں ہوتی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ