اردوئے معلیٰ

انتخاب 1988ء

قوم تھی یہ جس کی خاطر ایک مدت سے بضد

انتخابِ عام آخر ہو گیا وہ منعقد

 

صبح کو سولہ نومبر کی تھا میلے کا سماں

ووٹ دینے آئے تھے سب مرد و زن پیر و جواں

 

ہر طرح کے لوگ تھے سب میں تھا اک جوش و خروش

تھے وفادارانِ ملت اور تھے ملت فروش

 

عورتوں مردوں کا تھا چاروں طرف اک ازدحام

تھا الیکشن کا نظارہ صبح سے تا وقتِ شام

 

ہو چکا جب قوم کے پوشیدہ ووٹوں کا شمار

مرضی اہلِ وطن کھل کر ہوئی پھر آشکار

 

اکثریت کو پسند آئی ہے پیپل پارٹی

از سرِ نو دے گئی ہے قوم کو جل پارٹی

 

کلمہ گوؤں کے دلوں کا راز افشا ہو گیا

حسنِ ظن ان کی طرف سے تھا جو رسوا ہو گیا

 

رہ گئے حیرت زدہ سارے بہی خواہانِ دیں

داؤں اپنا چل گیا لوگوں پہ شیطانِ لعیں

 

چاہتے تھے جو یہاں برپا ہو اسلامی نظام

وہ نتیجہ سن کے آخر رہ گئے پھر دل کو تھام

 

اک زنِ برگشتۂ دیں پر کیا ہے اعتبار

دیں کی جانب پشت کر دی قوم نے بالاختیار

 

اللہ اللہ قوم کی ناعاقبت اندیشیاں

کس قدر یہ ہو گئی ناواقفِ سود و زیاں

 

ایک عورت کی قیادت پر ہوئے راضی عوام

کیا عجب آ جائے اب قدرت کے زیرِ انتقام

 

دورِ استبدادِ بھٹو اف بھلا بیٹھی ہے قوم

حافظہ کیسا ہے اس کا آہ یہ کیسی ہے قوم

 

نعرہ ہائے دل نشیں کا اس نے ڈالا دام سخت

پھنس گئے تھے اس میں بھی اس قوم کے شوریدہ بخت

 

بر گلوئے قوم پھیری اس نے شمشیرِ ستم

اور کیا کہئے وطن کو کر گیا ظالم دو لخت

 

پھر خدا نا آشنا لوگوں نے پایا اقتدار

ہوں گے پھر اہلِ وطن ہر بربریت کا شکار

 

تیر تھا تیرِ ستم کہ جس کے حق میں رائے دی

اپنے ہاتھوں اپنے پاؤں پر کلھاڑی مار لی

 

اپنے کرتوتوں کا پھر یہ قوم چکھے گی مزا

آسماں سے کوئی نازل ہو گی پھر تازہ سزا

 

عالمانِ دینِ قیم سے میں شکوہ سنج ہوں

ان کی بد اعمالیوں پر میں اسیرِ رنج ہوں

 

اقتدارِ دیں کی خاطر بھی ہوئے کب متحد

اپنے مسلک پر رہے وہ تا دمِ آخر بضد

 

مجتمع ہونا تھا لیکن ٹولیوں میں بٹ گئے

ہے غضب کی بات وہ حکمِ خدا سے ہٹ گئے

 

متحد ہوتے جو سب دے دیتے باطل کو شکست

فتح مندی کے نشہ میں آج یوں پھرتا نہ مست

 

اہلِ علم اہلِ قلم سے بھی شکایت ہے مجھے

ہے بُرا ان کا رویہ غم نہایت ہے مجھے

 

اہلِ باطل کی وکالت اہلِ حق سے اختلاف

فکر ژولیدہ کے بل پر ہوتے ہیں وہ موشگاف

 

لکھتے رہتے ہیں جو باتیں وہ خلافِ الکتاب

ایک دن دینا پڑے گا اپنے لکھے کا حساب

 

پیشوایانِ تصوف کا الگ ہے راستہ

دین کو ان کے نہیں دنیا سے جیسے واسطہ

 

وہ اترتے ہی نہیں در کارزارِ زندگی

وہ سمجھتے ہی نہیں یہ بھی ہے کارِ بندگی

 

دین و دنیا کی دوئی کا فلسفہ ان کو عزیز

پڑ گئے غفلت کے ان کی آنکھ پر پردے دبیز

 

نظمِ دنیا دیں پہ یا طاغوت پر ہو استوار

اِس سے اُن کو کیا غرض ہے، وہ ہیں یونہی رستگار

 

درد مندی سے میں یہ کہتا ہوں اپنی قوم سے

واسطہ رکھیں نہ وہ خالی صلٰوة و صوم سے

 

اجتماعی زندگی کو بھی سنورنا چاہئے

اہلِ حق پر فرض ہے یہ کام کرنا چاہئے

 

مصطفیٰ کا دینِ قیم ہے محیطِ زندگی

رنگ اسلامی ہو گر کل زندگی ہے بندگی

 

جو بھی شعبہ زندگی کا دین سے آزاد ہو

زندگی برباد ہو ایمان بھی برباد ہو

 

چھوڑ دو اے بھائیوں قول و عمل کا تم تضاد

تاکہ مٹ جائے ہماری زندگی سے ہر فساد

 

متحد ہو کر کے لانا ہے نظامِ مصطفیٰ

عام کرنا ہے ہمیں ہر سو پیامِ مصطفیٰ

 

ہے عبث یہ حرص و آزِ ساز و سامانِ حیات

کام وہ کر جائیے کام آئے جو بعدِ ممات

 

قوم یہ باقی ہے پھر آئے گا یومِ انتخاب

دیں کے متوالوں کو ہونا ہے بالآخر کامیاب

 

قوم کی بگڑی بنا دے اے خدائے کارساز

کر دے گلشن کو مرے پابندِ آئینِ حجاز

 

چشمِ رحمت کی نظرؔ یا رب مسلمانوں پہ کر

بارشِ انوارِ حق دل کے سیہ خانوں پہ کر

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ