اردوئے معلیٰ

ان کا خیال ہے مری دنیا کہیں جسے

ان کا جمال ہے مرا کعبہ کہیں جسے

 

ان کے بغیر کون ہے اس کائنات میں

مجھ سے فقیر مالک و مولا کہیں جسے

 

در ہے انہی کا جس کو سمجھئے خدا کا در

ان کی گلی ہے عرش معلیٰ کہیں جسے

 

پیش از طلب ہی دیتے ہیں بیش از طلب حضور

کیا آئے لب پہ حرف تمنا کہیں جسے

 

آئے نسیم طیبہ کے کھل جائے ہر کلی!

دل ہو کہ باغ خلد کا نقشہ کہیں جسے

 

کون و مکاں میں کون ہے میرے کریم سا

ہاں وہ کریم مظہر یکتا کہیں جسے

 

آسی کو کیا کشاکش موت و حیات سے

آقا ہے اپنا جان مسیحا کہیں جسے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات