اردوئے معلیٰ

اَئے ابر زاد ، تیرے بدن پر یہ آبلے؟

ہم تو ترے بقول ، چلو دھوپ سے جلے

 

آوارگانِ دشتِ محبت کی کچھ کہو

زندانِ بے دِلی میں کوئی بات تو چلے

 

یوں ہے کہ اب نہیں ہے مداوا وصال بھی

کٹنے کو کٹ گئے ہیں جدائی کے مرحلے

 

درپے ہوا ہو عشق ، تو پھر معجزہ سمجھ

یہ لے کے میری جان ، اگر جان ہی ٹلے

 

خورشید ہو چلے تھے جو اپنے گمان میں

آخر کو شام ِ دشتِ ہزیمت میں جا ڈھلے

 

کوہِ ندا کی راہ پہ پڑتے نہیں قدم

پہلے ہی پوچھتی ہے تھکاوٹ کہاں چلے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات