اردوئے معلیٰ

اُس قامتِ زیبا پہ جو مائل نہیں ہوتا

اُس قامتِ زیبا پہ جو مائل نہیں ہوتا

کچھ اور ہی ہوتا ہے وہ دل ، دل نہیں ہوتا

 

توفیقِ ثنا اُن کا کرم ، اُن کی عطا ہے

ہر اہلِ سُخن نعت کے قابل نہیں ہوتا

 

اے رُوحِ سفر ! اہلِ سفینہ پہ نظر ہو

ساحل جو نظر آتا ہے ، ساحل نہیں ہوتا

 

اک نام نگہبان ہو ، اک ورد محاٖفظ

پھر مرحلۂ حشر بھی مُشکل نہیں ہوتا

 

جب سے غمِ فرقت کی حفاظت میں ہے اخترؔ

دل تلخیٔ حالات سے گھائل نہیں ہوتا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ