اُن کی جب بات چلی خوب چلی کیا کہنے!

اُن کی جب بات چلی خوب چلی کیا کہنے!

ظُلم کی رات ڈھلی خوب ڈھلی کیا کہنے!

 

اُن کی چوکھٹ سے صبا آئی بہاریں لائی

ہر کلی دِل کی کِھلی خوب کِھلی کیا کہنے!

 

حَرف کو بخت لگے، نعت ہوئی لب پہ رواں

نور کی شمع جلی خوب جلی کیا کہنے!

 

میرے سرکار کے آنے سے ہدایت کی مَہک

ساری دُنیا کو مِلی خوب مِلی کیا کہنے!

 

لب پہ آنے سے فقط نام نبی کا اعلیٰ

میری مشکل ہے ٹلی خوب ٹلی کیا کہنے!

 

اُن کی باتوں سے شعور آیا جہالت گہ میں

اُن کی ہر بات بھلی خوب بھلی کیا کہنے!

 

ایک میں ہی نہیں دُنیا ہے سوالی اُن کی

اُن کی ہے شان جلی خوب جلی کیا کہنے!

 

جن کو آقا نے چُنا فاطمہ زہرا کے لیے

ایسے اعلیٰ ہیں علی خوب علی کیا کہنے!

 

نام لیوا ہے رضاؔ جو بھی نبی کا سچّا

وہی رب کا ہے ولی خوب ولی کیا کہنے!

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

سوال : حُسن کی دنیا میں دیجیے تو مثال؟
محمدؐ کا حُسن و جمال اللہ اللہ
حُسن کی تشبیہ کے سب استعارے مسترد
جاری ہے فیض شہر شریعت کے بابؑ سے
آئے بیمار جو دَر پر تو شِفا دیتے ہیں
بے خُود کِیے دیتے ہیں اَندازِ حِجَابَانَہ​
مرحبا! رحمت دوامی پر سلام
تاجدار جہاں یا نبی محترم (درود و سلام)
دوستو! نور کے خزینے کا
جو ان کے ہونٹوں پہ آ گیا ہے ، وہ لفظ قرآن ہوگیا ہے