اردوئے معلیٰ

اُن کی چشمِ کرم کے طلبگار ہیں

اُن کی چشمِ کرم کے طلبگار ہیں

سر بسر اب تو ہم شوقِ دیدار ہیں

 

یادِ محبوب میں محوِ اذکار ہیں

اُن کے عشاق کیسے طرحدار ہیں

 

کم نصیبوں کو دنیا نے ٹھکرا دیا

کملی والے مگر سب کے غمخوار ہیں

 

پا شکستہ چلا ہوں میں اُن کی طرف

یہ مری خوش نصیبی کے آثار ہیں

 

رحمتِ دو جہاں، رحمتِ دو جہاں

ہم گنہگار ہیں، ہم گنہگار ہیں

 

کتنے خوش بخت ہیں جن کا کوئی نہیں

کن کا کوئی نہیں، ان کے سرکار ہیں

 

روز و شب وقف مدحت ہیں قلب و نظر

اب مری خلوتیں خلد آثار ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ