اِتِّبَاعِ سرورِ عالم سے روشن ہو عمل!

اِتِّبَاعِ سرورِ عالم سے روشن ہو عمل!

یوں رقم ہو نعت کے اُسلوب میں تازہ غزل

 

ہے تسلط غیر کا قلب و دماغ و روح پر!

لکھ دیا ہے وقت نے ماتھے پہ ’’ذلت ہے اَٹل‘‘

 

چھوڑ کر اِک جادۂ روشن کو امت آپ کی

چاہتی ہے ساتھ ہی پاتی رہے نسبت کا پھل!

 

کان میں مسلم کے پھونکا ہے یہی شیطان نے

گر بلندی چاہتا ہے تو، اِنہی راہوں پر چل

 

چل رہی ہے ذلتوں کی رہ پہ اُمت آپ کی

اِک اشارے سے بدل دیجے یہ اسباب و علل!

 

نوحہ خواں ہے پھر عزیزؔ احسن زوالِ قوم کا

درد کے اَشجار میں اے کاش اب آ جائے پھل!

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

رنگ بکھرے ہیں مدینہ میں وہ سرکار کہ بس !
واہ کیا مرتبہ ہوا تیرا
کون کہتا ہے کہ زینت خلد کی اچھی نہیں
نبی کے برابر ہوا ہے نہ ہو گا
آپؐ کے آستاں پہ جاتے ہیں
آپؐ کے آستاں پہ آتا ہوں
وہی محبوب، محبوبِ خُداؐ ہے
خدا کا، عشق محبوبِ خدا کا
واصف نبی کا اپنے یہاں جو بشر نہیں
کمال اسم ترا، بے مثال اسم ترا