اردوئے معلیٰ

اِک تُو ہی نظر آئے جس سمت نظر جائے

اِک تُو ہی نظر آئے جس سمت نظر جائے

اے صُورتِ دلدار! کوئی بچ کے کدھر جائے

 

ہم نے تو سرِ دستِ دُعا رکھ دیے دونوں

اب چاہے ترے عشق میں دل جائے کہ سر جائے

 

اے خُوگرِ گریہ! کوئی پل دم بھی لیا کر

آنکھوں کا یہ پانی کہیں سر سے نہ گُذر جائے

 

تقدیر جو بگڑی ہے تو کچھ وقت لگے گا

یہ زُلف نہیں ہے کہ سنوارو تو سنور جائے

 

یکسانیتِ عشق ! وہ محبوب کہیں ڈھونڈ

جو روز کرے عہدِ وفا ، روز مُکر جائے

 

کچھ ہے جو اِسے تیری طرف کھینچ رہا ہے

ورنہ یہ نظر اور کہیں بارِ دگر جائے

 

کیا راہ نکالی ہے زمانے نے کہ ہر شخص

آئے ، مجھے دیکھے ، ٹھکرائے ، گُذر جائے

 

!اِک عشق سرائے ہے مرا دل سو حسینو

جس جس کو ٹھہرنا ہو بِنا دام ٹھہر جائے

 

رنگین مزاجی کی بھی ہوتی ہے کوئی حد

فارس! دلِ آوارہ سے کہہ دو کہ سُدھر جائے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ