اِک شخص میں ہر وصف تھا

(منقبت:سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ)

 

اِک شخص میں ہر وصف تھا
صدق و صفا، حِلم و حیا
صبر و رضا، جود و سخا
پاکیزگیٔ طبع کے
کیسے نمایاں عکس تھے
آئینۂ کردار میں
اس وقت جب چاروں طرف
ظلمت کے بادل چھائے تھے
جو شخص تھا گمراہ تھا
بے رحم تھے اہلِ دَوَل
سردار سب فرعون تھے
اس عہدِ ظلمت میں بھی وہؓ
محبوب تھے ہر شخص کے
بطحا کے طول و عرض میں
عثمانؓ کی محبوبیت
ضرب المثل تھی اس قدر

بچوں کو مائیں لوریاں
دیتی تھیں اُنؓ کے نام سے
کہتی تھی ماں بچے سے یوں
’’بیٹے قسم معبود کی
تجھ سے جو اُلفت ہے مجھے
وہ اس سے کم ہرگز نہیں
ہے جتنی اُلفت قوم کو
عثمان بن عفانؓ سے‘‘
عثمانؓ بن عفان کو
پاکیزہ خوئی کے سبب
ایمان کی دولت ملی
قربِ نبی ﷺ حاصل ہوا
پھر امتحاناً آپؓ کو
دو ہجرتیں کرنی پڑیں
ان ہجرتوں میں ساتھ تھیں
بنتِ رسولِؐ ہاشمی
زوجہ مبارک آپؓ کی
جن کا رُقیہؓ نام تھا

ایمان والوں میں رہے
عثمانؓ بن عفان ہی
اوَّل مہاجر، قوم کے
پھر یہ سعادت بھی ملی
آقا ﷺ نے خود فرمایا
’’بعد از خلیل اللہ  ہیں
عثمانؓ ہی اسلام میں
ایسے مہاجر جو چلے
گھر بار اپنا چھوڑ کر
ہمراہ بیوی کو لیے‘‘
عثمان بن عفان نے
دولت جو دیں پر خرچ کی
اس کی کوئی حد ہی نہیں
سب نے غنی اُن کو کہا
عثمانؓ ذوالنورینؓ ہی
پیغمبرِ اسلام کے
داماد وہ بے مثل تھے
آئی تھیں جن کے عقد میں

سرکار ﷺ کی دو بیٹیاں
عثمانؓ بن عفان سے
اس درجہ خوش تھے شاہِ ﷺ دیں
دس بیٹیاں ہوتیں اگر
وقتِ ضرورت، بالیقیں
دیتے رسولِ ﷺ ہاشمی
عثمانؓ ہی کے عقد میں
کتنی فضیلت ہے کہ جب!
بیعت ہوئی ’’رضوان‘‘ کی
آقا ﷺ نے اپنے ہاتھ کو
خود اپنے دستِ پاک پر
رکھ کر یہ فرمایا کہ ہے
’’بیعت یہی عثمانؓ کی‘‘
عثمان بن عفان ہی
بے مثل ہیں وہ حکمراں
جن کی عمل داری میں تھے
کرمان و شام و ملکِ رَے
جن کی حدودِ سلطنت

قبرص سے تھیں غزنی تلک
کابل سے طبرستان تک
مصر و بلادِ شام تک
ہاں اس امیرِ قوم کے
دشمن ہوئے کچھ اشقیا
بلوائیوں کی شکل میں
داخل مدینے میں ہوئے
اس وقت ذوالنورینؓ نے
ان پر کوئی سختی نہ کی
اعدائے دیں جتنے بھی تھے
پیاسے تھے اُنؓ کے خون کے
لیکن امیر المؤمنیںؓ
کی نرم خوئی کے سبب
اُن اشقیاء کے حوصلے
بڑھتے گئے بڑھتے گئے
شیطان کے چیلوں کو یوں
آمادۂ شر دیکھ کر
مخلص اَحِبَّاء نے دیا

حضرتؓ کو پھر یہ مشورہ
’’یا تو مدینہ چھوڑ دیں
یا لشکرِ اسلام سے
اشرار کے اس غول کی
فی الفور سرکوبی کریں‘‘
لیکن رسول اللہ ﷺ کے
داماد نے ان سے کہا
’’طیبہ کو میں اس عمر میں
چھوڑوں! یہ ممکن ہی نہیں‘‘
’’شہرِ رسول اللہ ﷺ کے
اطراف میں رہتے ہیں جو
اُن پر مدینہ تنگ ہو
یہ بھی مری مرضی نہیں
میری حفاظت کے لیے
کافی مرا اللہ ہے‘‘
اُس پاسبانِ قوم نے
شہرِ رسولِ محترم ﷺ
پل بھر کو بھی چھوڑا نہیں

قوت کے استعمال کی
ہر راہ خود پر بند کی
یوں اس حلیم انسان پر
ظلم و ستم ڈھایا گیا
پانی کو ترسایا گیا
اُس جامع القرآن کو
پھر خوں میں نہلایا گیا
وقتِ شہادت تک بھی جو
قرآن ہی پڑھتا رہا
شہرِ نبیؐ کی عظمتیں
پیشِ نظر تھیں اس لیے
خود بے بسی میں جان دی
لیکن تقدس شہر کا
تا زندگی قائم رکھا
ذی اقتدار ایسا کبھی
چرخِ بریں نے بھی کوئی
واللہ دیکھا ہی نہ تھا
واللہ دیکھا ہی نہیں

عثمانؓ بن عفان سا
پاکیزہ سیرت حکمراں
اللہ کا انعام تھا
لیکن پھر اس انعام کو
اُمت نے خود ہی کھو دیا
لاکھوں سلام اس ذات پر
جس پر نبی ﷺ کو فخر تھا
احمد رضا خاں کی طرح
تم بھی عزیزؔ احسن کہو
عثمانؓ ذوالنورین کی
عظمت پہ ہوں لاکھوں سلام

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

منقبت: (خلیفۂ دوم)دلِ بے تاب ہوا چشم زدن میں پُر تاب
حسینؑ! تیرے لہو سے ہے تربتر صحرا
اے کریم بنِ کریم اے رہنما اے مقتدا
ہوائے ظلم سر کربلا چلی کیا ہے
چلا ہے شان سے کربل ، جگر حسینؓ کا ہے
کبھی ہو یہ بھی کہ میں بھی مدینہ دیکھ سکوں
نعتِ شہہِ کونین ﷺ کے یوں حرف رقم ہوں
کھوکھلے دعوے
میں اس تصور میں محو ہو کر ترانۂ شوق گا رہا ہوں
میرا خامہ جو یا نبی ﷺ لکھے