آئے بیمار جو دَر پر تو شِفا دیتے ہیں

آئے بیمار جو دَر پر تو شِفا دیتے ہیں

سائلوں کو بھی وہ تو گنجِ عطا دیتے ہیں

 

راہ بھٹکوں کو وہ منزل سے مِلا دیتے ہیں

ڈُوبنے والوں کو ساحل سے لگا دیتے ہیں

 

فضل فرماتے ہوئے ہِجر مِٹا دیتے ہیں

اپنے دیوانوں کو قُربت کی ہوا دیتے ہیں

 

ظالموں کو بھی وہ دیتے ہیں کرم کے توشے

دُشمنِ جاں کے لیے کملی بچھا دیتے ہیں

 

ساقیء حشر ہیں وہ جام عطائوں والے

اپنے تشنہ کو وہ بھر، بھر کے پلا دیتے ہیں

 

جب کبھی یاد ستاتی ہے رضاؔ آقا کی

ہم تو سرکار کی محفل کو سجا دیتے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

پھر نعتِ مصطفیٰؐ پر راغب ہوئی طبیعت
نہیں ہے دم خم کسی میں اتنا
اے شافع امم شہ ذی جاہ لے خبر
مومن وہ ہے جو اُن کی عزّت پہ مَرے دل سے
سر سوئے روضہ جھکا پھر تجھ کو کیا
تصور میں منظر عجیب آ رہا ہے
ہر ایک پھول نے مجھ کو جھلک دکھائی تری
مدحت نگار میں بھی ہوں خیرالانام کا
سفر میں حضر میں آگہی آپ ﷺ ہیں
مدینہ ونجف و کربلا میں رہتا ہے