آتی ہے رات دن اک آواز یہ حرم سے

آتی ہے رات دن اک آواز یہ حرم سے

رونق جہاں پہ چھائی آقا کے دم قدم سے

 

توفیق نعت کی ہے سرکار کے کرم سے

لکھتا ہوں نعت دل پر عرفان کے قلم سے

 

دکھ درد دور میرے فوراً ہی ہو گئے تھے

نعتِ نبی پڑھی جب محفل میں چشمِ نم سے

 

اک بار حاضری کی توفیق گر ملے تو

سب حال دل کے کہہ دوں سرکارِ محترم سے

 

زاہدؔؔ کو خوف ہو کیوں محشر کی سختیوں کا

بخشش تو اس کی ہو گی محبوب کے کرم سے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

بعد ثنائے ربِّ معظَّم، نعتِ نبی ہو جاری پیہم
باعثِ فخر ہے یہ خواب کی بات
خدا کی خاص رحمت اور کرم سے 
پھر قصیدہ حُسن کا لکھا گیا
شہِ بطحا کی یہ چوکھٹ ہے، پشیماں کیوں ہے
ہر گھڑی ہے تمنا یہی یا نبی
شجر کے دل میں گھاؤ کر گیا ہے
لبوں سے اسمِ محمد کا نور لف کیا ہے
اذاں میں اسمِ نبی سن لیا تھا بچپن میں
ترے نام کے نور سے ہیں منور مکاں بھی مکیں بھی

اشتہارات