آدمی کب کسی شمار میں ہے

آدمی کب کسی شمار میں ہے

سب ہی کچھ تیرے اختیار میں ہے

 

میرے رب مجھ پہ رحم فرما دے

فکر میری ابھی غبار میں ہے

 

دیدِ کعبہ نصیب ہو یا رب!

اک تڑپ قلبِ بے قرار میں ہے

 

سیرتِ مصطفٰے ﷺ میں ڈھل جاؤں

یہ دعا روحِ تار تار میں ہے

 

بخش دے ہر گناہ، اے مالک!

التجا قلبِ شرم سار میں ہے

 

میرے اعمال ہیں سیاہ مگر

نورِ ایماں تو دل کے غار میں ہے

 

وسعتِ عالمین تو یارب!

تیرے ہی نور کے حصار میں ہے

 

روزِ اوّل کیا تھا جو رب سے

دل اُسی عہد کے خمار میں ہے

 

کاش بعدِ وصال خلق کہے

روحِ احسنؔ تو مرغزار میں ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

پیش نگاہ خاص و عام، شام بھی تو، سحر بھی تو
تُوں دُنیا دے باغ دا
خدا ہے روشنی جھونکا خدا ہے
پُر لطف زندگی ہے مری لاجواب ہے
جو مشفق ہے جو مونس مہرباں ہے، وہی تیرا خدا میرا خدا ہے
مقام و مرتبہ اللہ کا اللہ اکبر
جہاں کے بُتکدوں سے دُور رہنا
خدا نے نعمتیں بخشی ہیں کیا کیا، خدا نے برکتیں بخشی ہیں کیا کیا
خدا کی حمد میں رطب اللساں ہیں
خدا توفیق دے مجھ کو میں حمد و ثناء لکھوں