اردوئے معلیٰ

Search

آدمی کب کسی شمار میں ہے

سب ہی کچھ تیرے اختیار میں ہے

 

میرے رب مجھ پہ رحم فرما دے

فکر میری ابھی غبار میں ہے

 

دیدِ کعبہ نصیب ہو یا رب!

اک تڑپ قلبِ بے قرار میں ہے

 

سیرتِ مصطفٰے میں ڈھل جاؤں

یہ دعا روحِ تار تار میں ہے

 

بخش دے ہر گناہ، اے مالک!

التجا قلبِ شرم سار میں ہے

 

میرے اعمال ہیں سیاہ مگر

نورِ ایماں تو دل کے غار میں ہے

 

وسعتِ عالمین تو یارب!

تیرے ہی نور کے حصار میں ہے

 

روزِ اوّل کیا تھا جو رب سے

دل اُسی عہد کے خمار میں ہے

 

کاش بعدِ وصال خلق کہے

روحِ احسنؔ تو مرغزار میں ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ