اردوئے معلیٰ

Search

آپ تو صرف حکُم کرتے ہیں

سنگ مٹھی میں بول پڑتے ہیں

 

تجھ سے ہی آب و دانہ لیتے ہیں

تیرے سائل یہ سب پرندے ہیں

 

منتظر آپکے قدم کے حضور

میرے دل میں ہزار رستے ہیں

 

ان سے غَم کہتے ہیں ، شُتَر اَپنا

اُنکی فرقت میں پیڑ روتے ہیں

 

جو سراقہ کو مل گئے کنگن

یہ بھی میرے نبی کے تحفے ہیں

 

لطف وہ بحرِ سروری ہے ترا

جس میں دریا تمام گرتے ہیں

 

ذکر ان کا سلامتی ہی تو ہے

تا بہ افلاک لاکھ زینے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ