اپنی تمام رونقِ تاباں کے باوجود

اپنی تمام رونقِ تاباں کے باوجود

میں ماہِ نیم شب ہوا، رُو بہ زوال ہوں

 

اک عہدِ مہرباں کا تراشہ ہوا ، سو میں

اس عہدِ ناسپاس میں ملنا محال ہوں

 

افسوس ہے کہ مجھ سا کوئی بھی نہیں ہوا

کم بخت آج تک بھی فقید المثال ہوں

 

حرفوں سے مطمئن نہیں ہوتی ہیں وحشتیں

میں پوچھتا نہیں ہوں سراپا سوال ہوں

 

تجرید میری، تیری صراحت سی نا سہی

لیکن کسی کے دستِ ہنر کا کمال ہوں

 

مشکل سے ہمقدم ہوں سبک رو حیات کے

میں آسماں بدوش ، اگرچہ نڈھال ہوں

 

میں عالمِ خیال سے دھرتی کا رابطہ

موہوم تو ضرور ہوں لیکن بحال ہوں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ