اردوئے معلیٰ

اپنی قربت کے سب آثار بھی لیتے جانا

اب جو جاؤ در و دیوار بھی لیتے جانا

 

چھوڑ کر جا ہی رہے ہو تو پھر اپنے ہمراہ

ساتھ رہنے کا وہ اقرار بھی لیتے جانا

 

دکھ تو ہو گا مگر احساس ہو کم کم شاید

جاتے جاتے مرا پندار بھی لیتے جانا

 

بیخودی مجھ سے مری چھین کے جانے والے

آگہی کے کڑے آزار بھی لیتے جانا

 

جشنِ آزادیِ اظہار میں اے نغمہ گرو

میری زنجیر کی جھنکار بھی لیتے جانا

 

اُن سے ملنے کبھی جاؤ تو بطرزِ سوغات

مجھ سے مل کر مرے اشعار بھی لیتے جانا

 

بزم یاراں نہیں حاکم کی عدالت ہے ظہیرؔ

سر پر اُونچی کوئی دستار بھی لیتے جانا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات