اک دور میں میں عشق کا منکر ضرور تھا

اک دور میں میں عشق کا منکر ضرور تھا

لیکن تمہاری ذات پہ ایمان تھا مجھے

 

جب تک کوئی کمال کوئی بھی ہنر نہ تھا

تب معرکہ حیات کا آسان تھا مجھے

 

ائے موجہِ نسیمِ سحر ، میں چراغ ہوں

تیرا تو التفات بھی طوفان تھا مجھے

 

وہ تو شبِ فراق نے جاں مانگ لی مری

ورنہ بڑا وصال کا ارمان تھا مجھے

 

آخر وہی ہوا نہ ، تماشہ بنا جنوں

لاحق اسی کا خوف مری جان تھا مجھے

 

جب تک کھلے نہ تھے تری نفرت کے معجزے

اس دل کے شعبدوں پہ بڑا مان تھا مجھے

 

دیتا ضمانتیں میں زمانوں کی کیا تجھے

جب کہ مرا وجود بھی امکان تھا مجھے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

آخری سپاہی
نوحہ گر
عمر بھر عشق کسی طور نہ کم ہو آمین
جھجھکتے رھنا نہیں ھے ادا محبت کی
مری دیوانگی خود ساختہ نئیں
مَنّت مانی جائے؟ یا کہ دم کروایا جا سکتا ہے؟
پایا گیا ہے اور نہ کھویا گیا مجھے
وصال رُت بھی اگر آئے ، کم نہیں ہوتے
نہ پُھول کی نہ کسی نافۂ غزال کی ہے
بات کب رہ گئی مرے بس تک