اردوئے معلیٰ

اک نور سے مطلعِ انوار مدینہ

ضوریز ، سحر بخش ، ضیا بار مدینہ

 

ہر دور کی تہذیب جسے رشک سے دیکھے

اُس حسنِ تمدن کا ہے شہکار مدینہ

 

جب بات چلی عزت و اکرامِ بشر کی

دنیا کو ملا ایک ہی معیار ، مدینہ

 

ہجرت کی خبر سُن کے بہت شاد ہیں انصار

کس شوق سے ہے طالبِ دیدار مدینہ

 

تعلیمِ اخوت کی ہے تفسیر مواخات

ہے مہر و وفا ، خدمت و ایثار مدینہ

 

انصار نے یہ عہد کیا بدر سے پہلے

روکے گا سدا کُفر کی یلغار مدینہ

 

ہر دور میں اسلام کی بے مثل سپر ہے

سرکارِ مدینہ کا وفادار مدینہ

 

مدت سے یہی ایک دعا مانگ رہا ہوں

اللہ ! دکھا دے مجھے اک بار مدینہ

 

جس دن سے یہاں سیدِ کونین مکیں ہیں

اس دن سے ہے سب شہروں کا سردار مدینہ

 

تکمیلِ تمنا سے نوازا گیا اختر

اعزازِ رفاقت کا طلبگار مدینہ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات