اک نور سے مطلعِ انوار مدینہ

اک نور سے مطلعِ انوار مدینہ

ضوریز ، سحر بخش ، ضیا بار مدینہ

 

ہر دور کی تہذیب جسے رشک سے دیکھے

اُس حسنِ تمدن کا ہے شہکار مدینہ

 

جب بات چلی عزت و اکرامِ بشر کی

دنیا کو ملا ایک ہی معیار ، مدینہ

 

ہجرت کی خبر سُن کے بہت شاد ہیں انصار

کس شوق سے ہے طالبِ دیدار مدینہ

 

تعلیمِ اخوت کی ہے تفسیر مواخات

ہے مہر و وفا ، خدمت و ایثار مدینہ

 

انصار نے یہ عہد کیا بدر سے پہلے

روکے گا سدا کُفر کی یلغار مدینہ

 

ہر دور میں اسلام کی بے مثل سپر ہے

سرکارِ مدینہ کا وفادار مدینہ

 

مدت سے یہی ایک دعا مانگ رہا ہوں

اللہ ! دکھا دے مجھے اک بار مدینہ

 

جس دن سے یہاں سیدِ کونین مکیں ہیں

اس دن سے ہے سب شہروں کا سردار مدینہ

 

تکمیلِ تمنا سے نوازا گیا اختر

اعزازِ رفاقت کا طلبگار مدینہ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

تیرے قدموں میں آنا میرا کام تھا
ہم تو آواز میں آواز ملاتے ہیں میاں
طیبہ کے مسافر کو کہہ دو کہ سنبھل جائے
جب سے ہوا وہ گل چمن آرائے مدینہ
جب مسجد نبوی کے مینار نظر آئے
اعلیٰ واطہر و اکمل وکامل صلی اللہ علیٰ محمد
جو ترے در پہ، دوانے سے آئے بیٹھے ہیں
ایسے ہو حُسنِ خاتمہء جاں نثارِ عشق
مرے آقا کی مسجد کے منارے داد دیتے ہیں
یا نبی نظرِ کرم فرمانا اے حسنین کے نانا

اشتہارات