اک وہی اللہ کا دلدار ہے

اک وہی اللہ کا دلدار ہے

اس کا عالم کو کرم درکار ہے

 

ہر لساں کے واسطے صلِّ علیٰ

ہر کسی کے واسطے ہے در کھلا

ہر کوئی اس کے ہی در کا ہے گدا

 

اور وہی عالی مری سرکار ہے

اس کا عالم کو کرم درکار ہے

عام اس کا رحم ہے اکرام ہے

وہ وحی ہے اور وہی الہام ہے

ہر دکھی دل کا وہی آرام ہے

 

سارے عالم کا وہی سردار ہے

اس کا عالم کو کرم درکار ہے

 

اس کو ہر اک آس کا ساحل کہو

اللہ کے اسرار کا حامل کہو

ہر کسی کو اس کا ہی سائل کہو

 

کارواں کا اک وہی سالار ہے

اس کا عالم کو کرم درکار ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ