اردوئے معلیٰ

اگرچہ کاسہِ حسرت میں خاکِ پا بھی نہیں

مگر فقیر کے لب پر کوئی صدا بھی نہیں

 

تُو ، کم نصیب قیامت ، کہ ٹوٹنے سے رہی

میں ایک محشرِ کم بخت جو بپا بھی نہیں

 

کمال یہ ہے کہ وحشت کی انتہا پر ہوں

مذاق یہ ہے کہ وحشت کی انتہا بھی نہیں

 

عجب سیال اداسی میں آ گرا ہوں جہاں

میں ڈوبتا بھی نہیں اور تیرتا بھی نہیں

 

مری ہے خیر اگر بے خطا بھی مرتا ہوں

تمہارا تیر تو پھر خیر سے خطا بھی نہیں

 

بڑے ہی کرب کے عالم میں جان سے گزرا

وہ ایک رشتہِ بے نام تھا کہ تھا بھی نہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات