اگر دل میں یادِ مدینہ رہے گی

اگر دل میں یادِ مدینہ رہے گی

منور ترے دل کی دنیا رہے گی

 

تمنا کرے گا جو ان کی گلی کی

مہک دار بزم تمنا رہے گی

 

جہاں کو ہمارے نبی کی ضرورت

ہمیشہ رہی ہے ہمیشہ رہے گی

 

بڑھاتا ہے رب العلیٰ ان کی عظمت

وہ اعلیٰ تھی ، اعلی ہے ، اعلیٰ رہے گی

 

نبی کے غلاموں میں گنتی ہے میری

یہ پہچان ہی میرا طرہ رہے گی

 

صبا لاتی رہنا مدینے کی خوشبو

کلی میرے دل کی شگفتہ رہے گی

 

ثنائے نبی کی ردا اوڑھو انجمؔ

سر حشر بن کر یہ سایہ رہے گی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

آنکھیں جو خدا دے تو ہو دیدار محمد
پادشاہا! ترے دروازے پہ آیا ہے فقیر
خوشا نصیب یہ بندہ بھی نعت کہتا ہے
واللّیل ضیائے زلفِ دوتا رخسار کا عالم کیا ہوگا
ہوئی ہے رُوح مری جب سے آشنائے درود
جُز آپ کے اے شاہِ رسولاں نہیں دیکھا
جیسے چُھپ جاتی ہے تیرہ شب سحر کے سامنے
کرم کے بادل برس رہے ہیں
اے خوشا آندم کہ گردم مست بایت یا رسول
ہجر تیرا مجھر اچھا نہیں ہونے دے گا

اشتہارات