اگر روشن مرے احساس کا خاور نہیں ہوتا

اگر روشن مرے احساس کا خاور نہیں ہوتا

مرا پیکر حقیقت میں مرا پیکر نہیں ہوتا

 

مکمل ہاں مکمل صبر کا دفتر نہیں ہوتا

پیمبر کے شکم پر گر کوئی پتھر نہیں ہوتا

 

سکوں کی نیند سو رہتے ہیں جو فٹ پاتھ پر ان کو

غمِ بستر نہیں ہوتا ، غمِ چادر نہیں ہوتا

 

نظر دوڑاؤ اور حالات کی بے چینیاں دیکھو

جو باہر ہو رہا ہے کیا وہی اندر نہیں ہوتا

 

تعجب ہے کہ کیسے زندگی کی سانس چلتی ہے

مرے سینے پہ کب اندوہ کا خنجر نہیں ہوتا

 

جو شدت غم کی بڑھتی ہے تو آنسو سوکھ جاتے ہیں

بھری برسات میں برسات کا منظر نہیں ہوتا

 

متینؔ ان کو بھی دیکھو کتنی بے فکری سے جیتے ہیں

کرائے کا بھی جن کے پاس کوئی گھر نہیں ہوتا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ