اردوئے معلیٰ

اگر مدینے کے ذروں سے دل لگی کرتے

ہم اپنے شہرِ تخیل میں روشنی کرتے

 

ایک عمر بیت چلی دوسری اگر ملتی

رقم حضورِ مکرم کے وصف ہی کرتے

 

رہا ہے سر پہ ہمیشہ خڈا کا لطف و کرم

حیات گزری ہے اپنی نبی نبی کرتے

 

خوشا نصیب کہ گزری ہے اطمینان کے ساتھ

نبی کے شہر کی گلیوں سے دوستی کرتے

 

زمانے بھر کے مسلماں عروج پر ہوتے

اگر حضور کے اسوہ کی پیروی کرتے

 

اے کاش گنبدِ خضریٰ کے سامنے مظہرؔ

گناہ گار نگاہوں کو متقی کرتے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات