اگر میں عہد رسالت ماب میں ہوتا

 

اگر میں عہد رسالت ماب میں ہوتا

ضرور حلقہ عالی جناب میں ہوتا

 

جو میری سوچ مہکتی ثبا کے پھولوں سے

تو ہر عمل مرا شامل ثواب میں ہوتا ہے

 

مرے سوال کی لکنت پہ مسکراتے حضور

کرم کا بہتا سمندر جواب میں ہوتا

 

اگر اعانت دیں کے لئے بلاتے حضور

تو میرا ہاتھ بھی دست جناب میں ہوتا

 

میں ایک ایک صدا پر لپٹتا   قدموں سے

جو میرا نام بھی شامل خطاب میں ہوتا

 

میں آنکھ کھول کے پھر خواب کی دعا کرتا

مرا نصیب جو بیدار خواب میں ہوتا

 

میں جان اپنی نچھاور حضور پر کرتا

مرا بھی ذکر شہیدوں کے باب میں ہوتا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مرے محبوب، محبوبِ زماںؐ ہیں
نظر کا دھوکہ ہے نام و نمود لا موجود
اے ختمِ رسل نورِ خدا شاہِ مدینہ
شعبِ احساس میں ہے نور فِشاں گنبدِ سبز
حشر میں پھیلے گا جب سایۂ غُفرانِ وسیع
حرف، احساس سے فائق نہیں ہونے والے
سب سے اعلٰی ہیں سب سے برتر ہیں
پردۂ ہجر نگاہوں سے سرکتا دیکھوں
مجھ کو یقیں ہے آئے گی امید بر کبھی
یہ جو میری آنکھیں ہیں میرے رب کی جانب سے مصطفےٰ کا صدقہ ہیں

اشتہارات