اردوئے معلیٰ

Search

 

اگر وہ دیکھ لیں مجھ کو جو اک نظر بھر کے

بدل ہی جائیں مقدر مجھ ایسے کمتر کے

 

ہجوم نوری فرشتوں کا ہوگا نادیدہ

قدم اٹھاتا ہوں کوئے نبی میں ڈر ڈر کے

 

نظر پھرے گی کسی اور سمت کیوں اس کی

ملا ہو آپ کا دیدار جس کو مر مر کے

 

اسی کے دم سے بہاریں ہیں صحنِ گلشن میں

چمن پہ لاکھ ہیں احسان اس گلِ تر کے

 

ترے دیار میں ہم تشنہ کام آئے ہیں

عطا ہوں جام ہمیں سلسبیل و کوثر کے

 

نگاہ چوم رہی تھی سنہری جالی کو

قرار ملتا تھا آنکھوں کو یہ عمل کر کے

 

ملا ہے ان کی اجازت سے یہ حسیں منظر

درِ رسول سے پھر کیوں مری نظر سر کے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ