اردو معلی copy
(ہمارا نصب العین ، ادب اثاثہ کا تحفظ)

اہلِ عرب کو صاحبِ مقدور کیا ہے

 

اہلِ عرب کو صاحبِ مقدور کیا ہے

ریگِ عرب کو نور علیٰ نور کیا ہے

 

شاہِ زمنؐ نے مانگنے والوں کو بھی ہمیش

جود و عطا کی بھیک سے مسرور کیا ہے

 

دُنیا میں غم کے ماروں کی دلجوئی کے لیے

خلاقِ کل نے آپؐ کو مامور کیا ہے

 

طیبہ سے تشنہ لوٹ کے آیا نہیں کوئی

ابرِ کرم نے خوب شرابور کیا ہے

 

میں نعت لکھ سکوں مری اوقات تو نہیں

کچھ جذبہ ہائے قلب کو مسطور کیا ہے

 

رنگینیء حیات میں کوئی کشش نہیں

طیبہ کے ریگزار نے مسحور کیا ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

حصار نور میں ہوں گلشن طیبہ میں رہتا ہوں
اپنے بھاگ جگانے والے کیسے ہوں گے
لمحہ لمحہ بڑھ رہی ہے شان ورفعت آپ کی
تمنا ہے یہی دل میں سمائی یا رسول اللہﷺ
نور احمد باعث آفاق شد
یہ دل سکونت خیرالانام ہو جائے
اک چشمِ کرم ، شاہِ اُمم ، سیّدِ لولاک !
سنّت کی پیروی بھی ہے لازم ثنا کے ساتھ
مہر و مہ و انجم کی، تنویر کا وہ باعث
آنکھ ہجرِ شہِ دیں میں روتی رہے ، نعت ہوتی رہے