اردوئے معلیٰ

ایک دو اشکوں سے کب غم کا فسوں ٹوٹتا ہے

ایک دو اشکوں سے کب غم کا فسوں ٹوٹتا ہے

آنکھیں جب دشت بنیں زور ِ جنوں ٹوٹتا ہے

 

کسی انجان اذیت کا ہے یہ رد ِ عمل

جب دروں جوڑتا ہوں میں تو بروں ٹوٹتا ہے

 

تو مرے گریے کی تحویل میں کیسے آیا

میں تو جس شخص سے ہنس کے بھی ملوں ٹوٹتا ہے

 

جانے والے نے بتایا نہیں جانے سے قبل

ورنہ چھت گرنی ہو تو پہلے ستوں ٹوٹتا ہے

 

جیسے ٹوٹا ہوں میں بکھرا ہوں ترے چاروں طرف

غور دیکھ بتا پھر کوئی یوں ٹوٹتا ہے ؟

 

مجھ سے نیندوں کی نگہداری کرانے والو

میں کوئی خواب بھی تعیمر کروں ٹوٹتا ہے

 

ایک بارش سے کہاں ہوتی ہیں آنکھیں سیراب

ایک بوسے سے کہاں نشئہ خوں ٹوٹتا ہے

 

اس خرابے میں بھی جو سبز ہے چہرہ میرا

میری وحشت پر ہمہ وقت سکوں ٹوٹتا ہے

 

بجھی کھڑکی میں کھڑا سوچ رہا ہوں حیدر

جو ستارہ ہو نظر میں وہی کیوں ٹوٹتا ہے ؟

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ