’’اے خاور حجاز کے رخشندہ آفتاب‘‘

 

’’اے خاور حجاز کے رخشندہ آفتاب‘‘

روشن تمہارے نور سے ہے انجمن تمام

 

جاناں ترے ظہور مقدس کے ساتھ ساتھ

طے ہو گئے مراحل تکمیل فن تمام

 

کچھ کچھ کبھی کبھی نظر آیا کہیں کہیں

پایا ہے کس نے دہر میں یہ بانکپن تمام

 

گذرا ہے جس طرف سے ترا کاروان فیض

بکھرا گیا ہے راہ میں مشک ختن تمام

 

جس زیر کی میں تیرے تعلق کی بو نہیں

وہ زیرکی ہے اصل میں دیوانہ پن تمام

 

بخشی ہے کنکروں کو اگر لذت سخن

دھویا ہے شاعروں کا غرور سخن تمام

 

عصر جدید ہی تری چوکھٹ پہ خم نہیں

پر در ہے تجھ سے دامن عہد کہن تمام

 

رومیؒ ہو شاذلیؒ ہو غزالیؒ کہ کلیریؒ

سیکھے ہیں دلبری کے تجھی سے چلن تمام

 

ابھرے ہیں تیرے نقش کف پا کو چوم کر

شیریں سخن، بہار پھبن، گلبدن تمام

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

حشر میں مجھ کو بس اتنا آسرا درکار ہے
شکستہ حال اپنے دل کو سمجھانے کہاں جاتے
رخ پہ رحمت کا جھومر سجائے کملی والے کی محفل سجی ہے
طیبہ کی اُس ریت پہ پھولوں کے مسکن قربان
حقیقتِ مصطفی کہوں کیا کہ اضطراب اضطراب میں ہے
قلم خوشبو کا ہو اور اس سے دل پر روشنی لکھوں
وہ جو شبنم کی پوشاک پہنے ہوئے
میں پہلے آبِ زم زم سے قلم تطہیر کرتا ہوں​
گل شاہ بحر و بر کا اک ادنیٰ غلام ہے
نہیں ہے ارض وسما میں کوئی شریک خدا

اشتہارات