اردوئے معلیٰ

 

اے شہِ کون و مکاں تحفہء یزدانی ہو

حسنِ لاریب ہو بے سایہ ہو لاثانی ہو

 

کعبؓ و حسانؓ کی ہمراہی مقدر ٹھہرے

لوا الحمد کے سائے میں ثناء خوانی ہو

 

حاصلِ کن فیکون اور ہو مرکز ، محور

شاہِ کونین ہو کونین کی تابانی ہو

 

آپ ہی رکھتے ہیں ہر زخمِ جگر پر مرہم

آپ سے کہتے ہیں کوئی بھی پریشانی ہو

 

کاش وہ دن بھی ہو اشفاقؔ مری قسمت میں

بزمِ محبوب ہو جلوؤں کی فراوانی ہو

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات