اردوئے معلیٰ

 

اے صبا! سیدی سے جا کہنا غم کے مارے سلام کہتے ہیں

سبز گنبد کی ان بہاروں کو دل ہمارے سلام کہتے ہیں

 

آپ کی فکر سے چراغاں ہے آپ کا پیار آپ کا درماں ہے

خار زاروں پہ آپ کا ہے کرم، پھول سارے سلام کہتے ہیں

 

سبز گنبد کا آنکھ میں منظر اور تصویر میں آپ کا منبر

سامنے جالیاں ہیں روضے کی، دل ہمارے سلام کہتے ہیں

 

ذکر تھا آخری مہینے کا، تذکرہ پھڑگیا مدینے کا

حاجیو! سیدی سے کہہ دینا، بے سہارے سلام کہتے ہیں

 

اللہ اللہ حضور کے گیسو بھینی بھینی مہکتی وہ خوشبو

جن سے معمور ہے فضا ہر سُو وہ نظارے سلام کہتے ہیں

 

اللہ اللہ حضور کی باتیں مرحبا رنگ و نور کی باتیں

چاند جن کی بلائیں لیتا ہے اور تارے سلام کہتے ہیں

 

اے خدا کے حبیب، پیارے رسول یہ ہمارا سلام کیجیے قبول

آج محفل میں جتنے حاضر ہیں ملِ کے سارے سلام کہتے ہیں

 

غم کے بادل تمام پھٹنے لگے پردے آنکھوں سے سارے ہٹنے لگے

جو تلاطم بنے ہوئے تھے سہیل وہ کنارے سلام کہتے ہیں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات