اردوئے معلیٰ

Search

اے کاش کبھی سارے جھمیلوں سے نمٹ کے

میں روؤں حضور! آپ کے قدموں سے لپٹ کے

 

اِس عہد نے جو زخم دیئے ہیں مجھے آقا!

میں عرض کروں، تو مرا دل لخت ہو پھٹ کے

 

صحرائے جنوں میں، میں اکیلا ہی کھڑا ہوں

آتی نہیں خود اپنی بھی آواز پلٹ کے

 

دیں، سادہ تو دنیا کا ہر انداز ہے رنگیں

اس طرح تو ممکن ہی نہیں کوئی نہ بھٹکے

 

پھر بھی مرے آقا کی جو سیرت ہو نظر میں

دنیا کا ہر اِک نقش مری آنکھ میں کھٹکے

 

جب تک مرے کردار میں وہ آب نہ آئے

میں دیکھ نہ پاؤں کبھی دنیا کو پلٹ کے

 

احسن کبھی اس در کی حضوری ہو میسر

طیبہ میں پہنچ جاؤں میں ماحول سے کٹ کے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ