اے کاش! ہم بھی ہوں درِ انور کے سامنے

اے کاش! ہم بھی ہوں درِ انور کے سامنے

پھیلائے ہوئے جھولیاں سرور کے سامنے

 

آنکھوں سے چومیں نقشِ کفِ پائے مصطفی

گنبد کے سائے میں بڑے منبر کے سامنے

 

جنت تو اُن کے شہر کی ادنیٰ کنیز ہے

کچھ اور مانگ آ کے تونگر کے سامنے

 

اللہ کے حبیب تو مرکز ہیں دوستو!

دنیا تو گھوم جاتی ہے محور کے سامنے

 

بھر ، بھر کے جام ہم بھی پئیں حشر میں وہاں

جس دم بھی جائیں ساقیء کوثر کے سامنے

 

لے ، لے کے نام اُن کا گزر جائے زندگی

حسرت ہے مجھ رضاؔ کی اُسی در کے سامنے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

شاداں ہیں دونوں عالم، میلادِ مصطفیٰ پر
خطا ،ختن کے مشک سے دہن کو باوضُو کروں
مجھے آپؐ سے جو محبت نہ ہوتی
کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا
اے جود و عطا ریز
جس نے سمجھا عشق محبوب خدا کیا چیز ہے
سردارِ قوم سرورِ عالم حضورؐ ہیں
لبوں پہ جس کے محمد کا نام رہتا ہے
ہر دل میں تیریؐ آرزو
مصروفِ حمدِ باری و مدحِ حضورؐ تھا​