اردوئے معلیٰ

اے کاش! ہم بھی ہوں درِ انور کے سامنے

پھیلائے ہوئے جھولیاں سرور کے سامنے

 

آنکھوں سے چومیں نقشِ کفِ پائے مصطفی

گنبد کے سائے میں بڑے منبر کے سامنے

 

جنت تو اُن کے شہر کی ادنیٰ کنیز ہے

کچھ اور مانگ آ کے تونگر کے سامنے

 

اللہ کے حبیب تو مرکز ہیں دوستو!

دنیا تو گھوم جاتی ہے محور کے سامنے

 

بھر ، بھر کے جام ہم بھی پئیں حشر میں وہاں

جس دم بھی جائیں ساقیء کوثر کے سامنے

 

لے ، لے کے نام اُن کا گزر جائے زندگی

حسرت ہے مجھ رضاؔ کی اُسی در کے سامنے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات