اردوئے معلیٰ

بات کب رہ گئی مرے بس تک

آگ جب خود ہی آ گئی خس تک

 

خواب گاہوں کے در مقفل تھے

خواب دیتے ہی رہ گئے دستک

 

ہجر کی دھوپ کھا گئی تجھ کو

تیرے ہونٹوں کا اُڑ گیا رس تک

 

زندگی ، آ ، کہیں پہ چھپ جائیں

گن لیا ہو گا موت نے دس تک

 

دفعتاً ہی اجل نے کھینچ لیا

کر نہ پایا جنوں تجھے مس تک

 

ایک جگنو ہے میری مُٹھی میں

وہ بھی گر جی سکا اماوس تک

 

دل ، وہ کم بخت ، جس کے چھوتے ہی

خاک ٹھہرے وفا کے پارس تک

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات