بارگاہِ قدس میں یوں عزت افزائی ہوئی

بارگاہِ قدس میں یوں عزت افزائی ہوئی

سب فرشتوں کی مرے آگے جبیں سائی ہوئی

 

میرے اعمالِ سیہ کی جب صف آرائی ہوئی

حشر میں اٹھی نہ آنکھیں میری شرمائی ہوئی

 

جس قدر بھی غم ہو دل میں عندلیبوں کے ہے کم

روٹھ جائے جب گلستاں سے بہار آئی ہوئی

 

مختصر قصہ پرستارانِ مغرب کا ہے یہ

اپنے سر لے لیں بلائیں اُس کے سر آئی ہوئی

 

آنسوؤں کی شکل میں آنکھوں سے برسے گی ابھی

مطلعِ دل پر جو ہے غم کی گھٹا چھائی ہوئی

 

دیکھتا ہوں مٹ چکا ہے امتیازِ خیر و شر

چشمِ دنیا سے نظرؔ اف ختم بینائی ہوئی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

وہ ایک شخص کہ سب جا چکے تو یاد آیا
پگھل کر روشنی میں ڈھل رہوں گا
اچھے خاصے لوگوں پر بھی وقت اک ایسا آجاتا ہے
دل کو ٹٹولئے، کوئی ارمان ڈھونڈئیے
خاص سمجھا تھا مگر عام نکل آیا تھا
بخت جب کرب کے سائے میں ڈھلا ہو بابا
ہونے ہیں شکستہ ابھی اعصاب ، لگی شرط
ضبطِ غم توڑ گئی بھیگی ہوا بارش میں
چہروں کے لئے آئینے قربان کئے ہیں
ہجر کے کرب سے ، یوں لَف سے ، نکل آئیں گے